حکومت کی جیسکو ، فیسکو، آئیسکو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی منظوری

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)پاکستان کے پاور سیکٹر میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت نجکاری کی کابینہ کمیٹی (CCoP) نے 15 مئی 2026 کو اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (GEPCO) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO) کی نجکاری کے اسٹرکچر کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس فیصلے کے تحت حکومت نے ان تینوں منافع بخش ڈسکوز (DISCOs) کے 51 سے 100 فیصد حصص (Shares) نجی شعبے کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ ان علاقوں کے رہائشی ہیں تو یہ فیصلہ آپ کی جیب اور روزگار پر براہ راست اثر انداز ہوگا۔ آئیے اس اہم پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

جسپکو، فیسکو، آئیسکو سمیت مختلف ڈیسکوز جو کہ 1998میں کمپنیز آرڈیننس،1984کے تحت سرکاری سطح پر شامل کی گئی تھیں جو اپنے متعلقہ علاقوں میں بجلی کی تقسیم اور سپلائی کا کردار سنبھالتی چلی آئی ہیں ۔

یونیفارم ٹیرف کا مسئلہ: حکومت چاہتی ہے کہ ملک بھر میں بجلی کا ریٹ ایک جیسا رہے (Uniform Tariff) لیکن سرمایہ کاروں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سرمایہ کار ڈالر انڈیکسڈ ٹیرف کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ڈالر مہنگا ہونے پر بجلی خود بخود مہنگی ہو جائے گی۔

سبسڈی کا خاتمہ: نجی کمپنیاں منافع کے لیے کام کرتی ہیں۔ نجکاری کے بعد حکومت کی جانب سے دی جانے والی کراس سبسڈی ختم ہو سکتی ہے جس سے 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

سخت ریکوری مہم: نجی کمپنیاں بلوں کی وصولی کے لیے سخت اقدامات کریں گی۔ بجلی چوری یا بل ادا نہ کرنے کی صورت میں کنکشن کاٹنا اور بھاری جرمانے عائد کرنا معمول بن سکتا ہے۔

فوری طور پر شاید بہت بڑا جمپ نہ آئے لیکن طویل مدت میں سبسڈیز کے خاتمے اور ڈالر کے ساتھ ریٹ منسلک ہونے سے بلوں میں 20 سے 30 فیصد تک اضافے کا خدشہ موجود ہے۔

وفاقی حکومت نے انہیں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پرائیویٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مذکورہ کمپنیاں حکومت پاکستان کی ملکیت ہیں اوراپنے دائرہ اختیار میں صنعتی، تجارتی، زرعی، گھریلو اور دیگر صارفین کو بجلی کی تقسیم اور فراہمی کی ذمہ دار ہیں۔


فیسکو
وسطی پنجاب، بشمول فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، سرگودھا، میانوالی، خوشاب اور بھکر

گیپکو

گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، منڈی بہاؤالدین اور حافظ آباد

آئیسکو

اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، اٹک، چکوال اور آزاد جموں و کشمیر میں بجلی کی تقسیم میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔

دلچسپی رکھنے والی جماعتیں جو کمپنیاں، فرمیں، باڈی کارپوریٹس یا دیگر قانونی ادارے ہیں (اور نہ ہی افراد، نہ ہی پاکستان کی وفاقی یا صوبائی حکومتیں یا پاکستان کی وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے زیر ملکیت یا زیر کنٹرول کوئی انٹرپرائز انہیں ہر اس ڈیسکیوز کے لیے علیحدہ ای او آئی جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھمبر: پبلک ہیلتھ میں بڑےپیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، ریکارڈ ضبط

ایک واحد ادارے کے طور پر یا ایک کنسورشیم، ہارڈ کمپنی، ہارڈ 4 کمپنی) (مناسب طور پر نشان زد) اور میں ایک غیر کرپٹ شدہ یو ایس بی میں سافٹ الیکٹرانک کاپی، پرائیویٹائزیشن کمیشن (PC) کو مندرجہ ذیل پتے پر، لاگو ناقابل واپسی پروسیسنگ فیس کے ساتھ USD 5,000 (صرف ریاستہائے متحدہ ڈالر پانچ ہزار) یا PKR 1,400,000 (پاکستانی FD/1000 روپے)

جہاں کوئی دلچسپی رکھنے والا فریق کنسورشیم کے طور پر EOI جمع کرا رہا ہے، پروسیسنگ فیس صرف کنسورشیم کے کسی ایک رکن کو ادا کرنا ہوگی۔ ناقابل واپسی پروسیسنگ فیس بینک ڈرافٹ/پے آرڈر کی شکل میں ادا کی جا سکتی ہے

مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی اے :رات گئے سمز فروخت پر پابندی ،خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کا عندیہ

ذیل میں درج دیگر دستاویزات کے ساتھ ای او ایل میں جمع کرانا ضروری ہے، اور لازمی پروسیسنگ فیس، نیچے دی گئی آخری تاریخ پر یا اس سے پہلے ادا کی جانی چاہیے

جوپرائیویٹائزیشن کمیشن” کے حق میں قابل ادائیگی ہے، اور اسے ای او آئی کی ہارڈ کاپی کے ساتھ یا وائر/الیکٹرانک ٹرانسفرز کے ذریعے جمع کرانا ضروری ہے

(جس کی تفصیلات لنک پر دستیاب ہوں گی)