بھمبر (کشمیر ڈیجیٹل) محکمہ پبلک ہیلتھ (واٹر سپلائی) میں مالی بے ضابطگیوں کا بڑا سکینڈل سامنے آ گیا۔ آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس مظفرآباد کی خصوصی ٹیم نے اے جی آفس بھمبر اور واٹر سپلائی دفتر کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق خود کو اصول و میرٹ کا مینار قرار دلانے کیلئے بیتاب رہنے والےسابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے فرنٹ مین سابق ایکسین افتخار خلجی اور اکاؤنٹس آفس کے بعض اہلکاروں کے گٹھ جوڑ سامنے آگیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی اے :رات گئے سمز فروخت پر پابندی ،خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کا عندیہ
افتخار خلیجی اور اکائونٹ آفس کے اہلکاروں نے جعلی و ڈبل بلات کے ذریعے سرکاری خزانے کوتقریباً 65 لاکھ روپےنقصان پہنچایاجبکہ آڈٹ اعتراضات کے بعد 60 لاکھ روپے خاموشی سے واپس جمع کروائے دیئے گئے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ایس ڈی او برنالہ اور سماہنی کے ڈی ڈی اکاؤنٹس سے بغیر منظوری ادائیگیاں ہوتی رہیں۔ ذرائع کاکہناہےکہ واٹرسپلائی برنالہ منصوبےمیں بھی سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں۔
جو 2015میں 40 کروڑ روپے لاگت سےشروع ہوامگر2026تک مکمل نہ ہو سکا اور کئی علاقوں میں آج بھی پانی دستیاب نہیں۔ شہریوں کے مطابق انہیں کئی کئی روز بعد آلودہ پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جمعیت علماء جموں وکشمیر نے مسلم لیگ ن سے ہاتھ ملا لیا،انتخابی اتحاد کا اعلان
ذرائع نےمزید دعویٰ کیا ہے کہ دورانِ سروس سرکاری گاڑیوں کے پٹرول اور مرمت کے ڈبل اخراجات بھی وصول کئے جاتے رہے
جبکہ بعض ٹھیکیداروں نے کمیشن نہ دینے پر کروڑوں کی ادائیگیاں روکے جانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
شہریوں نے اینٹی کرپشن، احتساب بیورو اور دیگر اداروں سے مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔




