آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے، ان کے خاتمے یا تعداد میں کمی سمیت دیگر اہم ترین آپشنز پر غور کے لیے آج ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں مہاجرین کی 12 اسمبلی نشستوں کے مستقبل پر غور کے لیے آج ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس اہم ترین بیٹھک میں مہاجرین کی ان مخصوص نشستوں کو مکمل طور پر ختم کرنے، ان کی موجودہ تعداد کو کم کرنے یا دیگر متبادل آئینی آپشنز پر تفصیلی اور گہرائی سے غور و خوض کیا جائے گا۔ اس اجلاس کے فیصلے آزاد کشمیر کی مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے پناہ گزینوں (مہاجرین) کے لیے مخصوص یہ نشستیں ہمیشہ سے سیاسی اور آئینی اہمیت کی حامل رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آج ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا کہ آیا ان نشستوں کو موجودہ شکل میں برقرار رکھا جائے، یا پھر ملک کی موجودہ سیاسی و جغرافیائی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان میں نمایاں کمی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون سازی کے ذریعے ان نشستوں کے مکمل خاتمے کے آپشن کو بھی زیرِ غور لایا جائے گا، جس پر مختلف مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مہاجرین نشستوں کا معاملہ یکسو ہونے تک الیکشن شیڈول کا اعلان مشکل ہے، فیصل راٹھور
واضح رہے کہ دوسری جانب مہاجرین جموں وکشمیر نے آمدہ انتخابات سے قبل حکومت آزاد کشمیر سے مہاجرین 1989 کیلئے قانون ساز اسمبلی میں جموں اور ویلی کی دو اضافی نشستیں مختص کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مہاجرین جموں کشمیر 1989 کے امیر عزیر احمد غزالی نے آزاد ریاست جموں کشمیر کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قانون ساز اسمبلی کے آمدہ انتخابات سے قبل مہاجرین کشمیر 1989 کیلئے جموں اور ویلی کی دو الگ الگ نشستیں مختص کرے۔
انکا کہنا تھا کہ گزشتہ چھتیس برسوں میں قریب چھیالیس ہزار مہاجرین کو بیس کیمپ کی اسمبلی میں نمائندگی نہ ملنا قابلِ افسوس ہے ۔ عزیر احمد غزالی کا کہنا تھاکہ 1989 مابعد کے مہاجرین کے اس وقت تک تقریباً چھبیس ہزار ووٹ درج ہیں لیکن یہ ووٹ میرپور ، کوٹلی ، باغ ، ہٹیاں بالا، راولپنڈی اور مظفرآباد کے مختلف انتخابی حلقوں میں تقسیم ہیں جس کی وجہ سے مہاجرین کے ووٹ کو کوئی اہمیت حاصل نہیں
عزیراحمد غزالی کا کہنا تھا کہ قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے مہاجرین کو درپیش مسائل حل نہیں ہو رہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آمدہ انتخابات سے قبل مہاجرین 1989 کے ووٹرز کی تعداد مزید بڑھ جائے گی۔ چیئرمین پاسبان حریت نے وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارلحق اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آمد انتخابات سے پہلے ان مہاجرین کو قانونی ساز اسمبلی میں نمائندگی دینے دینے کا اعلان کریں ۔
انکا کہنا تھا کہ گزشتہ دس برسوں سے مسلسل مہاجرین قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت آزاد کشمیر مہاجرین کشمیر کے دیرینہ مطالبے کو پورا کرتے ہوئے قانون ساز اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کی نمائندگی کو ہر صورت یقینی بنائے ۔




