راولپنڈی اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں آٹے کا شدید ترین بحران سر اٹھانے لگا ہے جس کے باعث اوپن مارکیٹ اور سرکاری آٹے کی قیمتوں میں یکدم بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
راولپنڈی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آٹے کی قیمتیں یکدم بڑھنے سے مقامی نان بائی شدید ترین مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ مارکیٹ میں پیدا ہونے والے اس اچانک بحران پر نان بائیوں نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو آٹے کی قیمتیں فوری طور پر کم کی جائیں، یا پھر نان بائیوں کو نان اور روٹی کی قیمتیں بڑھانے کی باقاعدہ اجازت دی جائے۔ نان بائیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتوں پر کاروبار چلانا ان کے لیے اب ممکن نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں مہنگائی کی شرح میں ہفتہ وار 4.07 فیصد اضافہ، آٹا، چینی، ایل پی جی اور دالوں کی قیمتوں میں کمی
مارکیٹ ذرائع سے حاصل کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، فائن آٹے کی 80 کلو گرام کی بوری کی قیمت مارکیٹ میں 11,300 روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ دوسری جانب، لال آٹے کی 80 کلو گرام کی بوری کی قیمت بھی مارکیٹ میں 10,300 روپے سے اوپر چلی گئی ہے۔ قیمتوں میں ہونے والے اس ہوش ربا اضافے نے تندور مالکان اور نان بائیوں کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
آٹے کا یہ حالیہ بحران صرف اوپن مارکیٹ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے دستیاب سرکاری آٹے کو بھی شدید مہنگائی کی نظر کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، سرکاری آٹے کا 20 کلو گرام کا تھیلا جو پہلے 1,850 روپے میں دستیاب تھا، اب 400 روپے مہنگا ہو کر 2,250 روپے کی بلند سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اس اضافے سے عام شہریوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں: آٹے کے نرخوں میں مسلسل اضافہ: 20 کلو کا تھیلا 2150 روپے تک پہنچ گیا، شہری پریشان
نان بائیوں کا موقف ہے کہ آٹے کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ وہ پرانی قیمت پر روٹی اور نان فروخت کرنے کی بالکل بھی سکت نہیں رکھتے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے آٹے کی قیمتیں کم نہ کیں تو وہ نان اور روٹی کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس سنگین صورتحال پر تفصیلی غور کرنے کے لیے نان بائی ایسوسی ایشن نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں مہنگے آٹے کے خلاف ملک گیر ہڑتال، احتجاج، اور نان روٹی کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافے سمیت دیگر اہم امور پر مشاورت کر کے آئندہ کے سخت لائحہ عمل کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔



