عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو اچانک پَر لگ گئے ہیں جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی اور ممکنہ فوجی تنازعات کے باعث خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
لاہور سے موصول ہونے والی ویب ڈیسک کی رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اور ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں بڑھتی ہوئی حالیہ کشیدگی اور ممکنہ فوجی تنازعات کی خبروں نے عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش کی شدید لہر دوڑا دی ہے۔ اس سنگین جغرافیائی صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ اس وقت سخت غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو چکی ہے، جس کا براہِ راست اور فوری اثر پٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ٹرمپ کا سخت موقف، برینٹ خام تیل 104 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حالیہ حملے اور ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی خبریں منظرِ عام پر آنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں بے چینی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سرمایہ کاروں اور مارکیٹ ماہرین کو قوی خدشہ ہے کہ ان حالات کی وجہ سے خلیجی ممالک سے خام تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کے اسی خوف کے باعث بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے اور قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔
مارکیٹ سے حاصل کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں 1.75 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت بڑھ کر 107.26 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی مارکیٹ میں عالمی معیار سمجھے جانے والے ‘برینٹ کروڈ’ (Brent Crude) کی قیمت میں بھی 1.32 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور اب برینٹ کروڈ عالمی منڈی میں 110.70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرنے لگا ہے، جو کہ ایک بڑی جست ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں نے مارکیٹ کی اس موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ سیاسی اور فوجی کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا یہ رجحان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کے مہنگا ہونے کا یہ اثر صرف پٹرول تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایندھن، مال برداری اور توانائی کے مجموعی اخراجات میں بھاری اضافہ ہو جائے گا جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔




