مظفرآباد( کشمیر ڈیجیٹل)جسٹس سردار عجاز خان کا تاریخ ساز حکم نواجون قانون دن راجہ کاشف آفتاپ ایڈووکیٹ پیروی میں دائر رٹ کی روشنی میں گرین گولڈ کو بچا لیا گیا۔
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد اور وادی نیلم میں مبینہ طور پر “ہوا میں لکڑی” کی نیلامی کا تہلکہ خیز انکشاف سامنے آ گیا، جبکہ عدالت العالیہ آزاد کشمیر نے ایک بڑے ماحولیاتی و مالیاتی اسکینڈل پر فوری مداخلت کرتے ہوئے لکڑی کی غیر قانونی نیلامی روکنے کا حکم جاری کر دیا۔
دوسری جانب حیران کن طور پر چیف کنزرویٹر جنگلات نے عدالتی کارروائی اور قانونی اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے پٹہکہ نصیر آباد میں لکڑی کی نیلامی شروع کر دی، جس پر قانونی و عوامی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پبلک اکائونٹس کمیٹی اجلاس، ٹیوٹا کو سپیشل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا فیصلہ
تفصیلات کے مطابق محکمہ جنگلات نے مظفرآباد میں ایک لاکھ چھ ہزار مکعب فٹ جبکہ نیلم میں اٹھانوے ہزار مکعب فٹ لکڑی کی نیلامی کے اشتہارات جاری کیے تھے، تاہم رٹ پٹیشن میں یہ انکشاف کیا گیا کہ مذکورہ لکڑی متعلقہ سیلز ڈیپوز میں موجود ہی نہیں تھی۔
درخواست گزار میئر عتیق و دیگر نے عدالت العالیہ میں مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ جنگلات نے قانون، قواعد اور ضابطہ کار کو پامال کرتے ہوئے “فرضی و کاغذی لکڑی” کی نیلامی کا عمل شروع کیا۔۔
حالانکہ جنگلات قوانین کے مطابق جب تک لکڑی سرکاری سیلز ڈیپو میں موجود نہ ہو، اس کی نیلامی کا اشتہار جاری نہیں کیا جا سکتا۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ جنگلات مافیا اور بعض بااثر عناصر ملی بھگت سے ریاست کے “گرین گولڈ” کو لوٹنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ؛ تین ہائیڈرل پاور پراجیکٹس کے ٹینڈر ز پراسیس کالعدم قرار
اگر عدلیہ بروقت مداخلت نہ کرتی تو قومی خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ عدالت العالیہ نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواست گزاروں کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے حکومت آزاد کشمیر اور محکمہ جنگلات سے جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزاروں کی جانب سے معروف قانون دان راجا کاشف آفتاب ایڈووکیٹ نے پیروی کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ محکمہ جنگلات نے نہ صرف قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی بلکہ غیر موجود لکڑی کی نیلامی کے ذریعے ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کی بنیاد رکھی گئی۔
انہوں نے مؤقف اپنایا کہ جنگلات جیسے حساس قومی اثاثے کے ساتھ کھلواڑ ناقابل برداشت ہے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ذرائع کے مطابق عدالت العالیہ کے واضح احکامات کے باوجود پٹہکہ میں نئی لکڑی کی نیلامی شروع کئے جانے نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
عوامی و سیاسی حلقوں نے چیف کنزرویٹر جنگلات کے اقدام کو “عدالتی حکم عدولی” قرار دیتے ہوئے چیف سیکرٹری اور حکومت آزاد کشمیر سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
عدالت العالیہ کے جج جسٹس سردار اعجاز خان نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے ریاستی وسائل اور جنگلات کو مبینہ لوٹ مار سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ شہری حلقوں نے اس فیصلے کو “آزاد کشمیر کے گرین گولڈ کو بچانے کا تاریخی اقدام” قرار دیا ہے۔
سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اگر “غیر موجود لکڑی” کی نیلامی کا سلسلہ نہ روکا جاتا تو یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا جنگلاتی اسکینڈل ثابت ہو سکتا تھا۔ اب نظریں حکومت اور محکمہ جنگلات کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں کہ آیا ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوتی ہے یا معاملہ روایتی فائلوں کی نذر ہو جاتا ہے۔




