رنگلہ (نمائندہ خصوصی)جموں وکشمیر جوائنٹ ایکشن یونین کونسل کٹکیر کھاوڑہ زیر اہتمام حق حکمرانی وحق ملکیت کانفرنس کاانعقاد کیا گیا ۔۔
کانفرنسمیں جموں وکشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کور ممبران اور مزاحمت کاروں کی کثیر تعداد میں شرکت کی گئی ۔ تقریب کی میزبانی راجہ عاقب سفیر ایڈوکیٹ ،راجہ وقاص سہراب ،راجہ عنصر ایوب عدنان اعظم ، رمیض ریاض اور انکی ٹیم نے کی اس موقع پر نوجوانوں کی طرف سے فلک شگاف نعرے بازی۔
جموں وکشمیر جوائنٹ ایکشن کے کورممبران کا جگہ جگہ فقید المثال استقبال کیا گیا ۔ تقریب سے جموں وکشمیر جوائںت ایکشن کمیٹی کے کور ممبران شوکت نواز میر، امجد علی ایڈووکیٹ ،انجم نواز اعوان،راجہ غلام مجتبی ،مجتبی بانڈے،صعیب جاوید کے علاوہ سلمہ حمید ،کرن کنول ،صباحت سہراب ،چوہدری ذولقرنین، قاسم شہباز ،شاہنواز راجہ ،ذیشان کاشر ،زیاد قاسم ، راجہ عاقب سفیر ایڈوکیٹ ،راجہ وقاص سہراب ،راجہ عنصر ایوب ایڈوکیٹ حماد شکیل ،راجہ تنسیم اشرف ،اسد علی، فیاض اسلم ،راجہ ذیشان ٹائیگر سمیت حلقہ بھر سے آے مقررین ومزحمت کاروں نے خطاب کیا۔۔
تقریب میں سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی راجہ منصور خان ،سردار عثمان کاشر اوردیگر نے بھی شرکت کی جبکہ حلقہ بھر سے کثیر تعداد میں نوجوانوں بزرگوں نے قافلوں کی صورت میں اس کانفرنس میں شرکت کی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دیوان چغتائی، چوہدری رشید کی ن لیگ میں شمولیت ،تھرڈ پارٹی کی انٹری کا امکان، عبدالمنان سیف اللہ کا انکشاف
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوے شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فورم سے قوم جاگ چکی ہے 9جون سے پہلے ایکشن کمیٹی راولاکوٹ میں 9جون کا ٹریلر چلا چکی ہے ۔۔
حکمران سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور چارٹر اف ڈیمانڈ کو پورا کریں ۔جو لوگ ایکشن کمیٹی کو کسی جماعت سے منسوب کررہے ہیں وہ غلط کررہے ہیں۔ہمیں قوم کے بعد کسی سیاسی جماعت کی حمایت کی ضرورت نہیں۔۔
یہ سب سیاسی جماعتیں ہمارے لئے ایک جیسی ہیں ۔جب 29ستمبر کو قتل عام ہوا ہورہا تھا کسی جماعت کو مذمت کی توفیق نہیں ہوئی ۔شوکت نواز کامزید کہنا تھا کہ ہم کسی کو نہیں کہتے ہیں کہ ہم سب مسائل حل کردیں گے لیکن جہاں بھی کوئی اپنے حقوق کیلئے نکلے گا ہم اس کے ساتھ ہوںگے۔۔
حلقہ کھاوڑہ کے لوگ تحریک کو مزیدقوت دیں تاکہ ہم ان کے مسائل حل کرنے کیلئے پوری قوت سے نکلیں۔ انشااللہ وہ وقت آے گا جب ریاست کے مسائل حل ہوں گے ۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ حلقہ کھاوڑہ والے جب اپنے حقوق کیلئے نکلیں گے۔ جموں وکشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی ان کے شانہ بشانہ نظر آئے گی ۔
امجد علی ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ معاشروں اور ممالک میں احتجاج صرف پلےکارڈ اٹھا کرکیا جاتا ہے اور انکے مسائل حل ہوجاتے یہاں مسائل حل کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کرنےپڑتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن گلگت بلتستان: پی ٹی آئی امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ، ڈیموکریٹک پارٹی پر پابندی
اس فرسودہ نظام میں جہاں ممبر اسمبلی کیلئےناخواندہہونا جبکہ لوکل کونسلر کیلئےمیٹرک کی تعلیمی شرط ہے یہاں پر مہاجرین کی نشستوں اور حقیقی مہاجرین کے حقوق کے لیے کافی عرصہ قبل آواز بلند کی تھی لیکن یا نظام طاقتور کا تو ہمیں سڑکوں پر نکلنا پڑا ۔
جب تک یہ فرسودہ نظام موجود ہے اس وقت تک نالہ اغڑ کیا چند کلومیٹر روڈ بھی ان حکمرانوں سےتوقع نہیں جب تک اقرباء پروری وسائل کا غیر منصفانہ نظام قانون وآئین کے بجاے طاقتور کا نظام ہے تو اپ کے مسائل کم ہونا مشکل ہے۔
ہمیں اس نظام کیخلاف جدوجہد کرنا ہوگی ۔اس موقع پرانجم نواز اعوان ،راجہ غلام مجتبی ،مجتبی بانڈے،صعیب جاوید کے علاوہ سلمہ حمید ،کرن کنول ،صباحت سہراب ،چوہدری ذولقرنین، قاسم شہباز ،شاہنواز راجہ ،ذیشان کاشر ،زیاد قاسم ، راجہ عاقب سفیرایڈوکیٹ ،راجہ وقاص سہراب ،راجہ عنصر ایوب ایڈوکیٹ حماد شکیل ،راجہ تنسیم اشرف ،اسد علی، فیاض اسلم ،راجہ ذیشان ٹائیگر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔۔
مقررین نے کہا کہ حلقہ کھاوڑہ کے مسائل ووسائل کو تقسیم کیا جائے نالہ اغڑ اس حلقے کا دیرینہ مطالبہ جس کو حل ہونا چاہیے تاکہ سفری مشکلات کو کم کیا جاسکے ۔
ان سکیم خور،مراعات یافتہ اور طبقے نے ریاست کو مفلوج کرکے رکھا ہوا ہے۔اب لاشیں اٹھانے نہیں بلکہ نظام کو بدلنے کا فیصلہ کن مرحلہ ہوگا ۔ 9جون کو نکلیں اور 78سالہ محرومیوں کو ختم کرنے اور اپنے حقوق کیلئے نکلیں ۔
سیز کمیونٹی کا کردار سب سے اہم رہا جنہوں نے سوشل میڈیا اور مالی طور پر مثالی تعاون کیا۔ جبکہ اس کانفرنس میڈیا کوریج تاجراں دا ویر راجہ رخصار احمد،محمد سجاد راجہ کا کانفرنس کی کامیابی پر اہم کردار رہا۔
انتظامیہ کی طرف سے کٹکیر کی تاجر برادری، ٹرنسپوٹ برادری، سول سوسائٹی اور مزدور طبقہ کا خاص شکریہ جو اپنے بنیادی حقوق کے مطالبات کیلئے باہر نکلے ۔
جبکہ شرکاء کالہو گرمانے کے لیے معروف مزحمت کار ہلہ بول ٹیم سردار عمر ریاض ایڈوکیٹ اور شفیق انقلابی نے مذحمتی نظموں ونعروں سے شرکاء تقریب کا لہو گرماتے رہے۔موسم کی خرابی کے باوجود رات گئے تک پنڈال سجا رہا۔




