معاملہ

بینک آف آزاد کشمیر میں مستقل صدر کی تعیناتی کا معاملہ پھر عدالت پہنچ گیا

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) بینک آف آزاد جموں و کشمیر میں مستقل صدر کی تعیناتی سے متعلق ہائیکورٹ آزاد کشمیر کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ ایک بار پھر عدالتی فورم پر پہنچ گیا ہے ۔

ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں زیر سماعت توہین عدالت کی درخواست محمد ایوب خان بنام خوشحال خان و دیگر کی ابتدائی سماعت کیلئے مقرر تاریخ کے موقع پر درخواست گزار محمد ایوب خان کی جانب سے ان کے وکیل ثاقب احمد عباسی ایڈووکیٹ کے توسط سے معزز عدالت میں ایک متفرق درخواست دائر کی گئی جس میں اپنی اہلیت سے متعلق دستاویزات ریکارڈ پر لانے کی استدعا کی گئی ۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ معزز ہائی کورٹ نے اس سے قبل ایک رٹ پٹیشن پر فیصلہ دیتے ہوئے بینک آف آزاد جموں و کشمیر میں دو ماہ کے اندر مستقل صدر تعینات کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس پر عمل نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بینک آف آزاد کشمیر میں جدیدترین سافٹ ویئر کی تنصیب کی جا ئیگی، ملائشین کمپنی سے معاہدہ طے

معزز عدالت نے مدعا علیہان کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تھی درخواست گزار کی جانب سے دائر متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ مدعا علیہ محکمہ خزانہ نے اپنے جواب میں یہ واضح نہیں کیا کہ معزز عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا اور دو ماہ میں مستقل صدر کی تعیناتی کیوں عمل میں نہیں لائی گئی ۔

محکمہ خزانہ نے ایسے فرد کا دفاع کیا ہے جو مجاز اتھارٹی کے نوٹیفکیشن کے بغیر فی الوقت بینک کے صدر کے طور پر کام کر رہا ہے درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ محکمہ خزانہ نے جواب میں درخواست گزار پر پیشہ ور بینکر نہ ہونے اور فٹ اینڈ پراپر ٹیسٹ پر پورا نہ اترنے کا الزام عائد کیا ۔

جس کی تردید کیلئے درخواست گزار نے اپنا فٹ اینڈ پراپر ٹیسٹ سرٹیفکیٹ بطور ڈویژنل ہیڈ ٹرانسفر آرڈر بینک رجسٹریشن دستاویزات اور بینکنگ ڈپلومہ معزز عدالت میں پیش کر دیا ہے ۔ استدعا کی ہے کہ یہ دستاویزات توہین عدالت کی درخواست کے منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری ہیں اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ درخواست گزار مقررہ معیار پر پورا اترتا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بینک آف آزادکشمیر کے صدر کی عدم تعیناتی، حکومت کو دو ہفتے کی مہلت

معزز ہائی کورٹ نے فریقین کے موقف کی روشنی میں کارروائی آگے بڑھانی ہے اور معاملہ عدالت العالیہ میں زیر سماعت ہے جس کا حتمی فیصلہ معزز عدالت کے حکم سے مشروط ہے ۔