غازی الٰہی بخش پوسٹ گریجویٹ کالج کی طالبات سڑکوں پر، شدید احتجاج

میرپور(کشمیر ڈیجیٹل)غازی الٰہی بخش گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین میرپور آزاد کشمیر کے ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات نے کالج انتظامیہ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروادیا

طالبات نے الزام عائد کیا ہے کہ ان سے موبائل فونز ضبط کر لئے گئے ہیں جس کے باعث انہیں تعلیمی اور گھریلو رابطوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ْ۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پہلگام واقعے کے پیچھے کون تھا؟ ایک سال بعد بھی سوالات کے جواب نہ مل سکے، ڈی جی آئی ایس پی آر

طالبات کا کہنا ہے کہ وہ بیچلر کلاسز کی طالبات ہیں اور اپنی تعلیمی تیاری، اسائنمنٹس اور آن لائن اسٹڈی میٹریل کیلئے موبائل فون کا استعمال ناگزیر ہے۔

ان کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے موبائل فونز ضبط کرنا طالبات کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ احتجاج کرنے والی طالبات نے مزید الزام عائد کیا کہ انتظامیہ انہیں میڈیا یا دیگر افراد سے بات کرنے سے بھی روکتی ہے جبکہ بعض طالبات کا کہنا تھا کہ ان کا اپنے اہل خانہ سے رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے۔

طالبات کے مطابق ہاسٹل انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس میں واضح طور پر درج ہے کہ ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات ہفتے میں صرف اتوار کے روز دو گھنٹے موبائل فون استعمال کر سکتی ہیں، جس پر طالبات نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ، فی لیٹر قیمت 5 روپے تک بڑھنے کا امکان

دوسری جانب کالج کی پرنسپل نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ کالج میں نظم و ضبط اور ڈسپلن برقرار رکھنے کے لیے طالبات کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کالج اوقات کار کے دوران موبائل فون اپنے ساتھ نہ رکھیں۔

ان کے مطابق یہ اصول ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات پر بھی لاگو ہوتا ہے تاکہ تعلیمی ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔پرنسپل کا کہنا تھا کہ طالبات کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید سہولیات سے آراستہ کمپیوٹر لیب طالبات کے لیے کھلی رکھی گئی ہے تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو اور وہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

احتجاج کرنے والی طالبات نے کالج انتظامیہ کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر میرپور سے نوٹس لینے اور ان کے مسائل فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Scroll to Top