پہلگام واقعے کے پیچھے کون تھا؟ ایک سال بعد بھی سوالات کے جواب نہ مل سکے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پوری قوم اور مسلح افواج کو اس عظیم الشان کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک تفصیلی پریس کانفرنس کی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کا بیانیہ اب مکمل طور پر بے نقاب اور دفن ہو چکا ہے، جبکہ دنیا نے معرکہ حق کے دوران دیکھ لیا کہ خطے میں اصل ذمہ دارانہ کردار کون ادا کر رہا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کو ایک سال گزرنے کے باوجود کئی اہم سوالات آج بھی عالمی برادری، پاکستانی عوام اور خود بھارتی عوام کے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ واقعے کے فوراً بعد محض چند ہی منٹوں میں ایف آئی آر درج کر کے یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ حملہ آور باہر سے آئے تھے، حالانکہ آج تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لایا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارتی انٹیلی جنس اتنی ہی مؤثر تھی تو سینکڑوں کلومیٹر اندر آنے والے افراد کے بارے میں معلومات کیوں نہ مل سکیں، اس وقت بھارتی ادارے کیا کر رہے تھے۔

In his news conference DG ISPR stated that India blamed Pakistan without evidence, registered an FIR within ten minutes, and launched attacks under the pretext of a false flag operation to destabilize regional security — but Pakistan’s resolute response has now established it as… pic.twitter.com/HKvkof1b0C

بین الاقوامی میڈیا اور شواہد کی عدم دستیابی:

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آج بھی عالمی برادری یہی سوال کر رہی ہے کہ پہلگام واقعے کے پیچھے کون تھا اور اس کا مقصد کیا تھا۔ واقعے کے اگلے ہی روز بھارتی وزیر اطلاعات عالمی میڈیا کو ساتھ لے کر گئے، لیکن اس کے باوجود دنیا کو کوئی قابلِ اعتماد ثبوت فراہم نہیں کیے جا سکے۔ بین الاقوامی میڈیا نمائندوں نے مختلف مقامات اور مساجد تک جا کر خود یہ سوال اٹھایا کہ آخر حملوں میں کون لوگ نشانہ بنے، کیونکہ دنیا نے دیکھا کہ متاثرین میں بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری شامل تھے۔

دہشت گردی کا بیانیہ اور پاکستان کا ذمہ دارانہ طرزِ عمل:

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ بھارت بار بار پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگاتا رہا، لیکن معرکہ حق کے بعد یہ “ڈرامہ” ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب دیکھ رہی ہے کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والا کردار کون ادا کر رہا ہے۔ پاکستان نے معرکہ حق کے دوران انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، کشیدگی کو قابو میں رکھا اور خطے کے امن کو مقدم رکھتے ہوئے صورتحال کو مزید خطرناک ہونے سے روکا۔ بھارت خود کو “نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر” ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا، تاہم عالمی برادری نے حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔

DG ISPR says Pakistan gave a befitting reply to Indian aggression, adding that the false Indian narrative of labeling Pakistan as a source of terrorism has been buried forever, as the international community now fully recognizes Pakistan as a victim of Indian-sponsored terrorism… pic.twitter.com/MHocxc1OUP

بھارتی عسکری قیادت کا سیاسی رویہ اور پیشہ ورانہ تقابل:

انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت کی نام نہاد پیشہ ورانہ عسکری سوچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی عسکری قیادت کے بیانات ایک پیشہ ور فوجی رویے کے بجائے سیاسی نوعیت کے دکھائی دیے۔ بھارت کی فوجی قیادت اپنے سیاسی بیانیے کو فوجی اداروں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج نے مکمل پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کیا اور کسی افسر نے کبھی سیاسی قیادت کے بیانات کو بنیاد بنا کر اشتعال انگیز گفتگو نہیں کی۔ بھارتی سیاست دانوں کے بیانات جنگی ماحول پیدا کرنے والے محسوس ہوتے تھے، لیکن پاکستان نے ہر موقع پر ذمہ داری اور تحمل اپنایا۔

بھارت کے داخلی مسائل اور سماجی تقسیم:

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کو اپنے اندرونی مسائل کا سامنا ہے، لیکن وہ ان کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالتا ہے۔ بھارت کے اندر کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ منی پور اور دیگر علاقوں میں صورتحال تشویشناک رہی، لیکن بھارت مسلسل پاکستان پر الزامات عائد کرتا رہا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک بین الاقوامی تنازع قرار دیا اور کہا کہ بھارت کی جانب سے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے یا قانونی تبدیلیوں کے باوجود یہ مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے۔

جدید کثیر جہتی جنگ اور پاکستان کی تیاری:

احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق اور بنیان مرصوص کے دوران جدید جنگ کے مختلف پہلوؤں کا عملی تجربہ کیا۔ آج کی جنگ صرف روایتی میدانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ فضا، زمین، سمندر، سائبر، اطلاعات اور انسانی ذہنوں تک پھیل چکی ہے۔ جدید جنگ میں صرف ہتھیار ہی نہیں بلکہ معلومات، بیانیہ اور ذہنی سطح پر اثرانداز ہونے کے حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ پاکستان نے ان تمام چیلنجز کا سامنا کیا اور ہر میدان میں مؤثر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان پہلے بھی تیار تھا، دورانِ معرکہ بھی متحرک رہا اور اب بھی ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

قومی یکجہتی اور بانیٔ پاکستان کا مؤقف:

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے دنیا کو دکھایا کہ ملک، افواج، قیادت اور عوام ایک صفحے پر کھڑے ہیں۔ بعض حلقوں کو شک تھا کہ پاکستان اندرونی طور پر متحد نہیں، لیکن کشمیر سے گوادر تک پوری قوم ایک ہو کر کھڑی رہی۔ انہوں نے کہا کہ بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کا یہ مؤقف آج بھی زندہ ہے کہ پاکستان کے خلاف کوئی سازش یا جارحیت کامیاب نہیں ہو سکتی۔

بھارت کی بے چینی اور حتمی پیغام:

ڈی جی آئی ایس پی آر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “ایک پاکستان اور دوسرا فیلڈ مارشل دن رات ان کے خواب میں آتے ہوں گے”۔ انہوں نے بھارت کے اندرونی حالات، سیاسی اور سماجی سطح پر بڑھتے ہوئے مسائل اور اقلیتوں کے ساتھ ریاستی رویے پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کو اپنے مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے براہِ راست اور ذمہ دارانہ انداز میں بات کرنی چاہیے۔ اگر آج بھی خطے میں استحکام کے لیے سب سے زیادہ کوئی ملک کوشش کر رہا ہے تو وہ پاکستان ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو اپنے اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے، لیکن وہ ان کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارت کے اندر کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ دنیا کے سامنے ہے۔ منی پور اور دیگر علاقوں میں بھی صورتحال تشویشناک رہی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مسئلہ کشمیر کو ایک بین الاقوامی تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی موجودگی میں بھارت کی جانب سے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے یا قانونی تبدیلیوں کے باوجود یہ مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کا اختتام اس پیغام پر کیا کہ جب بھی بھارت کو داخلی یا خارجی مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ دہشت گردی کے بیانیے کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے اور سیاسی مقاصد کے لیے اپنے ہی ملک کے واقعات کو استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کو کسی معاملے پر اعتراض ہے تو اسے اشتعال انگیزی کے بجائے ذمہ دارانہ انداز میں بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ اگر آج بھی خطے میں استحکام کے لیے سب سے زیادہ کوئی ملک کوشش کر رہا ہے تو وہ صرف پاکستان ہے۔

 

Scroll to Top