امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو لکھے گئے ایک حالیہ خط میں ایران کے ساتھ جاری مسلح کشیدگی کے خاتمے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ خطے میں صورتحال اب بھی غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ اہم خط کانگریس کے اسپیکر مائیک جونسن اور سینیٹ کے صدر چک گراسلی کے نام ارسال کیا ہے۔ اس مراسلے میں صدر نے اپنا مؤقف اختیار کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ رواں برس 28 فروری سے ایران کے ساتھ شروع ہونے والی مسلح کشیدگی کا مرحلہ اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر منحصر ہے ہمیشہ کیلئے ختم ہونا چاہتا ہے یا ڈیل؟ڈونلڈ ٹرمپ کی پھر دھمکی
خط میں صدر ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ان کی انتظامیہ خطے میں ایک پائیدار اور مستقل امن کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام تر کوششوں کے باوجود اس بات کا امکان اب بھی موجود ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے۔
امریکی صدر نے خط میں اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ ایران کے ساتھ پیدا ہونے والا تنازعہ تاحال مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے صورتحال کو تذبذب کا شکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق اب بھی غیر یقینی ہیں۔
دوسری جانب سیاسی و دفاعی ماہرین نے اس خط پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس قسم کا مؤقف اختیار کرنے کا ایک خاص مقصد ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق صدر ممکنہ طور پر کانگریس سے باقاعدہ جنگی منظوری لینے کی آئینی ضرورت سے بچنا چاہتے ہیں، حالانکہ عملی طور پر خطے میں امریکی افواج کی موجودگی بدستور برقرار ہے۔




