ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے تیار ہے، تاہم امریکا کو اپنا دھمکی آمیز لہجہ اور رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
عباس عراقچی نے خطے کے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں سعودی عرب، قطر، ترکیے، مصر، عراق اور آذربائیجان شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران پر منحصر ہے ہمیشہ کیلئے ختم ہونا چاہتا ہے یا ڈیل؟ڈونلڈ ٹرمپ کی پھر دھمکی
اس دوران انہوں نے ان ممالک کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات اور سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اپنی پالیسیوں میں نرمی لائے اور دھمکیوں کی سیاست ترک کرے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کو باضابطہ ثالث کی حیثیت حاصل ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق اگر مذاکرات کے انعقاد کا کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا تو اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے بات چیت جاری مگر خوش نہیں،وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل قابل قدر ہیں، ٹرمپ
دوسری جانب امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی جانب سے ایسی شرائط پیش کی جا رہی ہیں جن سے وہ اتفاق نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔




