گرینڈ حیات لیز کیس: بی این پی کی معاہدے کی خلاف ورزیوں،ڈیفالٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)گرینڈ حیات کا معاملہ سیاسی نہیں بلکہ ایک قانونی اور معاہداتی ڈیفالٹ کیس ہے۔سی ڈی اے نے 2005 میں جناح کنونشن سینٹر کے قریب 13.5 ایکڑ زمین پانچ ستارہ ہوٹل منصوبے کیلئے لیز پر دی۔

میسرز بی این پی نے 4.882 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی دے کر یہ منصوبہ حاصل کیا۔صرف 15 فیصد ابتدائی ادائیگی کے بعد قبضہ دے دیا گیا، جس کے بعد ادائیگیوں میں ڈیفالٹ اور بار بار ری شیڈولنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیومعاملے پر اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دیدی

بی این پی کو متعدد مواقع اور نظرثانی شدہ ادائیگی شیڈول دیے گئے، مگر کمپنی اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکی۔منصوبے میں اپارٹمنٹس/کمرشل حصوں کی فروخت اور سب لیزنگ سے تیسرے فریق کے دعوے اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

سپریم کورٹ نے 09 جنوری 2019 کو لیز بحال کی، بشرطیکہ بی این پی پہلے سے ادا شدہ رقم منہا کر کے 17.5 ارب روپے ادا کرے۔بی این پی نے اب تک صرف 2.916 ارب روپے ادا کیے، جبکہ 14.583 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حاجی پیر ویلی : گاؤں بیاڑاں میں لنک روڈ کی تعمیر میں مبینہ کرپشن کا انکشاف

بی این پی کی 1.689 ارب روپے کی بینک گارنٹی بھی ختم ہو گئی، مگر اسے مطلوبہ حد تک تجدید یا بڑھایا نہیں گیا۔ سی ڈی اے نے دسمبر 2022 میں ادائیگی اور بینک گارنٹی کے نوٹس جاری کیے، جبکہ 07 فروری 2023 کو لیز ختم کرنے کا نوٹس دیا گیا۔

مسلسل عدم ادائیگی کے باعث سی ڈی اے نے 08 مارچ 2023 کو قانون کے مطابق لیز منسوخ کر دی۔بی این پی کی جانب سے واجبات کو کمرشل جگہ کے بدلے ایڈجسٹ کرنے کی تجویز قبول نہیں کی گئی، کیونکہ سی ڈی اے نجی ڈویلپرز کے ساتھ ایسی بک ایڈجسٹمنٹ نہیں کر سکتا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:گڑھی دوپٹہ : چوہدری رشید کی شہید حوالدار عمران عباسی کی نماز جنازہ میں شرکت

ایسی تجویز قبول کرنے سے دیگر ڈیفالٹ کرنے والے ڈویلپرز کے لیے خطرناک مثال قائم ہوتی۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی معاملہ اٹھایا اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے سیلنگ اور قبضے سے متعلق اقدامات کی ہدایات دیں۔

سی ڈی اے نے عمارت کے روزمرہ امور چلانے کے لیے ایڈمنسٹریٹر اور عبوری کمیٹی مقرر کر دی ہے۔بی این پی اور دیگر فریقین، بشمول بینک آف پنجاب، کی جانب سے دائر مقدمات اسلام آباد ہائی کورٹ نے 30 اپریل 2026 کو خارج کر دیئے۔

حکومت کا مؤقف واضح ہے: سرمایہ کاری خوش آئند ہے، مگر ڈیفالٹ، سرکاری زمین کا غلط استعمال، اور عوامی واجبات کی عدم ادائیگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ معاملہ سرکاری زمین، عوامی پیسے اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کا ہے۔

Scroll to Top