ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو کتنے ارب ڈالر سے ’ہاتھ دھونے‘ پڑیں گے؟ سی این این کے ہوشربا انکشافات

واشنگٹن: امریکی ٹی وی چینل سی این این نے ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم کی صورت میں امریکہ کے جنگی اخراجات 40 سے 50 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ خطیر اعداد و شمار محض ابتدائی کارروائیوں سے متعلق ہیں، جبکہ جنگ کے اصل اخراجات اس ابتدائی تخمینے سے کہیں زیادہ ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

جنگی بجٹ اور پوشیدہ اخراجات:

حیرت انگیز طور پر سی این این کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس بھاری رقم میں تباہ شدہ فوجی اڈوں کی مرمت اور جنگ کے دوران ضائع ہونے والے قیمتی فوجی ساز و سامان کی تبدیلی کے اخراجات شامل نہیں کیے گئے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر تنازع طویل ہوتا ہے تو یہ بجٹ کئی گنا بڑھ کر امریکی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق 50 ارب ڈالر کا یہ ابتدائی تخمینہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کسی محدود حملے کے بجائے ایک بڑی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکہ کشیدگی کے باوجود ماہرین نے تیل سستا ہونے کی خوشخبری سنا دی

عسکری قیادت کی صدر ٹرمپ کو بریفنگ:

دوسری جانب امریکی عسکری قیادت آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف نئے فوجی آپشنز پر اہم بریفنگ دے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ’سینٹکام‘ (امریکی سینٹرل کمانڈ) کے تیار کردہ منصوبے صدر کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ان منصوبوں میں ایران کے حساس جوہری مواد کو محفوظ بنانے کے لیے اسپیشل فورسز کے ممکنہ آپریشنز پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس اہم اجلاس میں ایران کی جانب سے متوقع جوابی کارروائیوں اور خطے میں امریکی مفادات کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: امریکہ کا مشرق وسطی میں تعینات اپنےجدید ترین جنگی بحری جہاز کی واپسی کا فیصلہ

امریکا ایران تنازع اور حالیہ کشیدگی:

امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات 2026 کے آغاز سے ہی انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی کے بعد ایران پر ’میکسمم پریشر‘ پالیسی کا دوبارہ نفاذ کیا گیا ہے، جس کے تحت ایران کی بحری ناکہ بندی اور تیل کی برآمدات کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکا کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب ’اسپیشل فورسز آپریشن‘ جیسے خطرناک آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایران نے بھی اس پر واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

 

اسٹریٹجک خطرات اور چیلنجز:

سینٹکام کے منصوبوں میں اسپیشل فورسز کے ذریعے جوہری مواد کو محفوظ بنانا انتہائی پرخطر عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسی کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں تابکاری کے پھیلاؤ یا ایران کے شدید ردِعمل کا خطرہ موجود ہے، جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ امریکی عسکری قیادت کا ایران کی جوابی کارروائیوں پر غور کرنا ثابت کرتا ہے کہ تہران کے میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی کو واشنگٹن میں ایک سنجیدہ خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب سب کی نظریں صدر ٹرمپ پر ہیں جو اپنی انتخابی مہم میں ’جنگوں کے خاتمے‘ کا وعدہ کر کے آئے تھے، کہ وہ ان جارحانہ منصوبوں کی منظوری دیتے ہیں یا سفارت کاری کو ترجیح دیں گے۔

Scroll to Top