انڈیا کی3 ایئرلائنز بند ہونے کے قریب آگئیں، بڑی وجہ سامنے آگئی

انڈیا کی3 بڑی ایئرلائنز نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ، اسرائیل جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے وہ اپنی پروازیں معطل کر سکتے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق ایئرلائنزنے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ بحران کے پیش نظر کورونا وبا کے دوران دی گئی عارضی مالی سہولیات کو دوبارہ بحال کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایوی ایشن سیکٹر پر بُرے اثرات مرتب

فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز، جو ملک کی بڑی نجی ایئرلائنز انڈیگو، ایئر انڈیا اور سپائس جیٹ کی نمائندگی کرتی ہے نے وزارت شہری ہوا بازی سے درخواست کی ہے کہ ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمتوں پر حد مقرر کی جائے اور اس پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کو عارضی طور پر معطل کیا جائے۔

تنظیم کے مطابق موجودہ غیر مستحکم قیمتیں ایئرلائنز کے نیٹ ورک کو ’غیر قابلِ عمل اور غیر پائیدار‘ بنا رہی ہیں۔

تنظیم نے ایک خط میں کہا کہ ایسے اقدامات پہلے بھی کئے گئے تھے جب کورونا وبا کے فوراً بعد اسی طرح کی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔

خط میں کہا گیا کہ انڈیا کی ایئرلائن انڈسٹری شدید دباؤ کا شکار ہے اور بند ہونے یا اپنی سرگرمیاں روکنے کے قریب ہے۔ ہوا بازی کے شعبے کی خراب صورتحال مغربی ایشیا کی جنگ اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے مزید بگڑ گئی ہے۔

عام طور پر ایندھن کسی بھی ایئرلائن کے آپریٹنگ اخراجات کا تقریباً 40 فیصد ہوتا ہے، اس لیے قیمت میں معمولی اضافہ بھی منافع اور ٹکٹوں کی قیمتوں پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا میں ایئر انڈیا کے پائلٹ کو پرواز سے پہلےجہاز سے اُتار دیا گیا، وجہ کیا تھی؟

خط میں کہا گیاکہ جیٹ فیول کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے نے ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات کو 30-40 فیصد سے بڑھا کر 55-60 فیصد تک پہنچا دیا ہے، جس سے ایئرلائنز کے لیے کام جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

تنظیم کے مطابق، اگرچہ ایئرلائنز نے مشرق وسطیٰ میں فضائی حدود کی بندش کے باوجود اپنی پروازیں جاری رکھنے کی کوشش کی، لیکن ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے ان کے آپریشنز کو مکمل طور پر چیلنج کر دیا ہے۔

دنیا میں تیل کا تیسرا بڑا صارف ہونے کے ناطے انڈیا آبنائے ہرمز کی بندش سے شدید متاثر ہوا ہےجو 28 فروری کو ایران پر امریکہ، اسرائیل کے حملوں کے بعد بند ہوئی۔

یہ تنگ سمندری راستہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں سے دنیا کی تیل اور گیس کی تجارت کا 20 فیصد گزرتا ہے۔

انڈیا ان ممالک میں شامل ہے جو اس بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ اس کا بڑا حصہ تیل خلیجی ممالک جیسے عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت سے آتا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے ساتھ ساتھ، خلیجی خطے میں فضائی حدود کی بندش کے باعث پروازوں کی منسوخی سے ہونے والے نقصانات نے بھی ایئرلائنز پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پونے ایئرپورٹ پر جدید طیارہ تباہ ،بھارتی فضائیہ کی حادثہ چھپانے کی کوشش

پنجاب، ہریانہ، دہلی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق، ایران جنگ کے باعث انڈیا کے ہوا بازی کے شعبے میں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 20 فیصد تک کمی آئی ہے اور تقریباً 2 ارب ڈالر کا خالص نقصان ہوا ہے۔

یاد رہے پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھی انڈین ایئرلائنز کواربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

Scroll to Top