کینیڈا میں ایئر انڈیا کے ایک پائلٹ کو نشے کی حالت میں پائے جانے پر پرواز سے قبل جہاز سے اُتار دیا گیا، جس کے بعد معاملہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ واقعہ وینکوور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آیا، جہاں مذکورہ پائلٹ وینکوور سے دہلی جانے والی پرواز انجام دینے والا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے کینیڈین پولیس کے حوالے سے بتایا کہ پائلٹ کے دو الگ الگ ٹیسٹ کیے گئے، جن کے نتائج سے یہ ثابت ہوا کہ وہ ڈیوٹی سرانجام دینے کے لیے نااہل تھا۔ پولیس کے مطابق یہ ٹیسٹ پرواز سے قبل کیے گئے، جس کے بعد فوری طور پر حفاظتی اقدامات کے تحت پائلٹ کو جہاز سے اُتار دیا گیا۔
ٹرانسپورٹ کینیڈا نے اس واقعے کو ’سنگین‘ قرار دیتے ہوئے ایئر انڈیا کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا، جس میں کہا گیا کہ ’اس پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘ ادارے نے اپنے بیان میں مزید وضاحت کی کہ وہ اس معاملے پر ایئر انڈیا اور انڈیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مناسب اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
ایئر انڈیا کی جانب سے جاری وضاحت میں بتایا گیا کہ وینکوور سے دہلی جانے والی پرواز 23 دسمبر کو اسی واقعے کے باعث تاخیر کا شکار ہوئی۔ ایئرلائن کے مطابق صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک متبادل پائلٹ کو فوری طور پر تعینات کیا گیا، جس کے بعد پرواز کو روانگی کی اجازت دی گئی۔
ایئر انڈیا نے مزید کہا کہ متعلقہ پائلٹ کو تحقیقات مکمل ہونے تک پرواز کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ کمپنی زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کرتی ہے۔ ایئرلائن کے بیان کے مطابق اگر خلاف ورزی ثابت ہوئی تو پائلٹ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا انڈیا فرسٹ دور ختم، پاکستان کو خارجہ پالیسی میں فوقیت
یہ پرواز بوئنگ 777 طیارے پر تھی، جو 344 مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کینیڈا نے ایئر انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی تحقیقات اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کی مکمل تفصیلات 26 جنوری تک فراہم کرے۔
ایئر انڈیا اس وقت پہلے ہی شدید جانچ پڑتال کی زد میں ہے، خاص طور پر جون میں پیش آنے والے بوئنگ ڈریم لائنر کے حادثے کے بعد، جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انڈیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے ایئرلائن میں متعدد حفاظتی خامیوں کی نشان دہی کی ہے۔
حالیہ دنوں میں چار ایئر انڈیا پائلٹس کو انتباہی نوٹس بھی بھیجے گئے ہیں، جن میں ریگولیٹری تعمیل اور فلائٹ کریو کے فیصلوں سے متعلق سنگین خدشات ظاہر کیے گئے۔ ادارے نے عملے کے لیے الکحل ٹیسٹنگ کے سخت قوانین تجویز کیے ہیں، جن میں تین مثبت ٹیسٹ کے بعد پائلٹ کا لائسنس مستقل طور پر منسوخ کرنے کی تجویز شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کا متعصبانہ رویہ، پاکستان کے بعد بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کا بھی بھارت جانے سے انکار
موجودہ قوانین کے مطابق انڈیا میں ہر سفر کے بعد پہلے لینڈنگ پورٹ پر بریتھلائزر ٹیسٹ لازمی ہے، جبکہ کینیڈین قوانین کے تحت پائلٹ کسی بھی الکحل مشروب کے استعمال کے 12 گھنٹے کے اندر جہاز نہیں چلا سکتا، اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے یا عدالتی کارروائی ہو سکتی ہے۔




