کشمیر بار کونسل کا سرکاری ونجی ملازمت کرنیوالے وکلاء کو انتباہ جاری

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)وائس چیئرمین آزاد جموں و کشمیر بار کونسل ریاض مغل ایڈووکیٹ کی ہدایت پر سیکرٹری بار کونسل نے اہم سرکلر جاری کر دیا ہے۔

سرکلر کے مطابق جو وکلاء لائسنس حاصل کرنے کے بعد سرکاری ملازمت، نجی ملازمت، منافع بخش عہدہ یا دیگر کاروبار میں ملوث ہیں،

انہیں 10 دن کے اندر آزاد جموں و کشمیر بار کونسل رولز 1998 کے رول 76-D کے تحت اپنا لائسنس سرنڈر کرنا ہو گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پولیس اہلکار کا اپنے بچوں پر تشدد،اہلیہ کا آئی جی آزادکشمیر سے کارروائی کا مطالبہ

مقررہ مدت میں عمل نہ کرنے والے وکلاء کے خلاف رول 162(i) اور 162(ii) کے تحت کارروائی کی جائے گی جس میں لائسنس کی منسوخی اور مس کنڈکٹ کی کارروائی شامل ہے۔

تمام متعلقہ وکلاء کو ہدایت کی جاتی ہے کہ 10 دن کے اندر بار کونسل کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ وائس چیئر مین آزاد جموں و کشمیر بار کونسل نے جاری سرکلر میں کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر بار کونسل سے وکالت کا لائسنس حاصل کرنے کے بعد بہت سے وکلا ء دیگر کاروبار ، منافع بخش عبده ، سرکاری و نیم ملازمت یا دیگر منافع بخش سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔۔

ایسے وکلاء کو آزاد جموں و کشمیر بار کونسل 10 دن کی مہلت دیتی ہے کہ اندر 10 ایام آزاد جموں و کشمیر بار کونسل رولز 1998 کے رول 0-76 کے تحت اپنے لائسنس سرنڈر کریں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مطالبات کی عدم منظوری ،ہیلتھ ملازمین کا یکم مئی سے تمام دفاتر بند کرنے کا اعلان

بصورت دیگر آزاد جموں و کشمیر بار کونسل از خود بار کونسل رولز 1998 کے رول (1) 162 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے والے وکلاء کے خلاف رول (ii) 162 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے لائسنس کی منسوخی کے علاوہ ایسے وکلاء کے خلاف مس کنڈیکٹ کی کارروائی عمل میں لائے گی ۔

لہذا تمام ایسے وکلاء جو وکالت کے علاوہ دیگر کسی بھی کاروبار میں ملوث ہیں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اندر 10 ایام بار کونسل کی ہدایت پر عملدرآمد کی یقینی بنائیں ۔ بصورت دیگر ان کے خلاف تحت ضابطہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

Scroll to Top