سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں قابض حکام نے اسلامی تعلیمات اور تبلیغِ اسلام کے ایک بڑے مرکز ‘دارالعلوم جامعہ سراج العلوم’ کو نشانہ بناتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ 25 سال سے ضلع شوپیاں کے علاقے امام صاحب میں خدمات سرانجام دینے والے اس ادارے کو کالے قانون (یو اے پی اے) 1967 کے تحت بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، نئی دہلی کی جانب سے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی انتظامیہ نے اس معروف تعلیمی ادارے پر ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ روابط کا الزام عائد کیا ہے۔ ڈویژنل کمشنر کشمیر انشول گارگ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری حکم نامے کے مطابق، ادارے پر سنگین قانونی، انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ قابض حکام کا دعویٰ ہے کہ ادارے نے اراضی کے حصول میں قواعد کی خلاف ورزی کی اور لازمی رجسٹریشن کے بغیر کام کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شاملاتِ دیہہ ذاتی نہیں اجتماعی ملکیت ہے، ہائی کورٹ سرکٹ میرپور نے بڑا فیصلہ سنا دیا
یہ کارروائی شوپیاں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی جانب سے جمع کرائے گئے ایک ڈوزیئر کے بعد عمل میں لائی گئی ہے، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ادارہ اس جماعت سے وابستہ ہے جسے بھارتی حکومت نے 2019 میں کالعدم قرار دیا تھا۔ قابض انتظامیہ نے ادارے کو ہدایت کی ہے کہ وہ زیرِ تعلیم طلبہ کو سرکاری اسکولوں میں منتقل کریں، جو کہ دراصل وادی میں تعلیمی اور دینی نیٹ ورک کو تباہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ واضح رہے کہ مقبوضہ وادی میں اس سے قبل بھی کئی ایسے ادارے بند کیے جا چکے ہیں، جسے کشمیری عوام اپنی دینی شناخت پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔




