مظفرآباد : آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ سرکٹ میرپور نے شاملاتِ دیہہ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور اصولی فیصلہ جاری کیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ شاملاتِ دیہہ کسی بھی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں ہو سکتی، لہٰذا اس کی خرید و فروخت، بیع نامہ، انتقال یا باہمی سمجھوتوں کے ذریعے کسی بھی قسم کی منتقلی قانونی طور پر ناقابلِ قبول اور کالعدم ہے۔
عدالت نے فیصلے میں وضاحت کی کہ یہ پوزیشن آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے طے شدہ اصولی فیصلوں کے عین مطابق ہے۔ بالخصوص 9 دسمبر 2025 اور 9 مارچ 2026 کے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں یہ بات اب طے شدہ ہے کہ شاملاتِ دیہہ اجتماعی ملکیت ہے اور اس پر کسی فردِ واحد کو ملکیتی حقوق حاصل نہیں ہو سکتے۔ ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے یہ فیصلے آئینی طور پر تمام ماتحت عدالتوں اور ریونیو اتھارٹیز پر لازم ہیں، اس لیے ٹرائل کورٹس کی جانب سے باہمی سمجھوتے کی بنیاد پر جاری کردہ ڈگریاں یا ریونیو اندراجات کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ججز کا سرکٹ بینچ راولاکوٹ میں مقدمات کی سماعت کا فیصلہ
عدالتِ عالیہ نے حکم دیا ہے کہ ایسے تمام سابقہ فیصلے اور اندراجات فوری طور پر منسوخ کیے جائیں اور محکمہ مال ریونیو ریکارڈ کو سپریم کورٹ کے طے کردہ اصولوں کے مطابق درست کرے۔ قانونی ماہرین اس فیصلے کو ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف شاملاتِ دیہہ سے متعلق دیرینہ تنازعات کا خاتمہ ہوگا بلکہ لینڈ مافیا کی جانب سے زمینوں پر غیر قانونی قبضوں کی روک تھام میں بھی بڑی مدد ملے گی۔




