آزاد کشمیر الیکشن ایکٹ میں بڑی تبدیلی: ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد اور تنظیموں کے الیکشن لڑنے پر مکمل پابندی عائد

آزاد جموں کشمیر کے صدر کی جانب سے جاری کردہ اس ترمیمی آرڈیننس کے مطابق وہ تمام سیاسی جماعتیں یا گروپس جن پر پاکستان میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ یا دیگر قوانین کے تحت پابندی عائد ہے، ان پر یہ پابندی آزاد کشمیر کے سیاستدانوں پر بھی فوری طور پر لاگو ہوگی۔

قانون کے مطابق ایسی تنظیموں سے براہِ راست یا بالواسطہ تعلق رکھنے والے افراد نہ تو سیاسی جماعت بنا سکیں گے اور نہ ہی بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑ سکیں گے۔

مہاجرینِ جموں کشمیر کے لیے نئی سہولیات:

آرڈیننس میں 1989 کے جموں کشمیر کے مہاجرین سے متعلق رہائشی دفعات میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نئے قانون کے مطابق مہاجرین جو مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں، اب اپنی رہائش کی جگہ تبدیل کرنے کی صورت میں نئے پتے پر اپنا ووٹ درج کروا سکیں گے۔ اس ترمیم کا مقصد مہاجرین کو ان کے جمہوری حق کے استعمال میں حائل قانونی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے تاکہ وہ اپنی موجودہ سکونت کے مطابق نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر : الیکشنز (ترمیمی) آرڈیننس 2026 جاری کر دیا گیا

حکومتی موقف اور نفاذ:

آزاد کشمیر کی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ ترامیم ریاست میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور انتخابی عمل کو کالعدم تنظیموں کے اثر و رسوخ سے پاک رکھنے کے لیے ناگزیر تھیں۔ الیکشن کمیشن کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران ان نئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرے۔ آزاد جموں و کشمیر میں انتخابی اصلاحات کا یہ عمل ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی چیلنجز اور بین الاقوامی مالیاتی واچ ڈاگ (ایف اے ٹی ایف) کے تقاضوں کو پورا کرنا پاکستان کے لیے اہم رہا ہے۔

اہم حقائق اور تاریخی تناظر:

پاکستان میں اس وقت 70 سے زیادہ ایسی تنظیمیں ہیں جنہیں ’نیشنل نیکٹس‘ کے تحت ممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔ اب یہ تمام تنظیمیں آزاد کشمیر کی سیاست سے بھی مکمل طور پر بے دخل کر دی گئی ہیں۔ 1989 کے بعد مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کے لیے پاکستان بھر میں 12 مخصوص نشستیں مختص ہیں، جن پر ووٹنگ کا طریقہ کار اب اس آرڈیننس کے بعد مزید شفاف ہوگا۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی کل 53 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں سے 45 ارکان براہِ راست ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں، جبکہ باقی مخصوص نشستیں ہیں۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی نئی لہر: 25 سالہ قدیم ‘جامعہ سراج العلوم’ غیر قانونی قرار

حالیہ برسوں میں یہ دیکھا گیا تھا کہ بعض کالعدم گروہ نئے ناموں کے ساتھ سیاسی میدان میں آنے کی کوشش کر رہے تھے، جس کا راستہ اب قانونی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف ریاست میں انتخابی عمل کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ یہ عالمی برادری کو بھی ایک مثبت پیغام دے گا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی سرزمین کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی۔

Scroll to Top