نیویارک: پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انڈیا کے یکطرفہ فیصلے کا نوٹس لے کیونکہ اس معاہدے کی معطلی سے جنوبی ایشیا کے امن اور سلامتی کے لیے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ جمعرات کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اس حوالے سے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی جانب سے ایک خط اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے صدر کے حوالے کیا۔
واضح رہے کہ انڈیا نے گذشتہ برس اس کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط محدود کرنے کے علاوہ دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق سنہ 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو بھی معطل کر دیا تھا۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا فیصلہ وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں انڈیا کی سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بینک آف آزاد جموں و کشمیر میں تعیناتی کا معاملہ سنگین، توہینِ عدالت کیس کی سماعت 28 اپریل کو ہوگی
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مشن نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ انڈیا کی جانب سے ایک سال سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی وجہ سے امن و سلامتی کے علاوہ انسانی بنیادوں پر نہایت سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خط میں سلامتی کونسل پر زور دیا گیا کہ اس خطرناک صورتحال کا نوٹس لے اور انڈیا سے کہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو بحال کرے۔ خط میں سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں موجود جموں و کشمیر کے تنازع اور اس سے متعلق قراردادوں پر بھی توجہ دلائی گئی۔
یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا کو بیاس، راوی اور دریائے ستلج کے پانی پر جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر اختیار دیا گیا تھا۔ تاہم ان تینوں مغربی دریاؤں یعنی سندھ، چناب اور جہلم کے بھی 20 فیصد پانی پر انڈیا کا حق ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کا مقصد آبی جارحیت اور علاقائی امن کو لاحق خطرات سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے۔




