بینک آف آزاد جموں و کشمیر میں تعیناتی کا معاملہ سنگین، توہینِ عدالت کیس کی سماعت 28 اپریل کو ہوگی

مظفرآباد: بینک آف آزاد جموں و کشمیر میں صدر/سی ای او کی تعیناتی کا معاملہ واضح عدالتی حکم اور توہین عدالت کیس کی سماعت کے باوجود تاحال حل نہ ہو سکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بینک آف آزاد جموں و کشمیر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنے ایک اجلاس میں ادارے کے ایک سینئر افسر کو صدر/سی ای او کا قائم مقام چارج سونپ رکھا ہے، جس کے تحت وہ روزمرہ امور کی انجام دہی محدود مدت یا مستقل تعیناتی تک انجام دے رہے ہیں۔

اس دوران ہائی کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن پر عدالت نے صدر/سی ای او کی مستقل تعیناتی کا واضح حکم جاری کیا تھا۔ تاہم مقررہ مدت کے اندر تعیناتی عمل میں نہ لائی جا سکی، جس پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔ عدالت عالیہ میں اس درخواست کی سماعت کے دوران حکومت کو مزید مہلت دی گئی تھی، اور آئندہ تاریخ 28 اپریل مقرر کی گئی ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق عدالتی مہلت کے باوجود تاحال مستقل صدر/سی ای او کی تعیناتی کا عمل مکمل نہیں ہو سکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیرہائی کورٹ نے طلباء سے امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دے دیا

اس صورتحال نے نہ صرف ادارہ جاتی انتظامی معاملات پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ قانونی و انتظامی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ بینکنگ و قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی مالیاتی ادارے میں اعلیٰ عہدے کی تعیناتی میں تاخیر ادارے کے استحکام اور فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ عدالتی احکامات پر بروقت عمل درآمد ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 28 اپریل کو عدالت عالیہ میں ہوگی، جس پر اس اہم انتظامی معاملے کے مستقبل کا تعین متوقع ہے۔

مزید پڑھیں:ہائی کورٹ آزاد کشمیر کا بڑا فیصلہ، ممبر الیکشن کمیشن کی تقرری کے خلاف رٹ خارج

Scroll to Top