دہمنی روڈ جعلسازی:خواجہ عبدالمنیر رحمانی کا ضیاء القمر،عابد حسین عابد پر سنگین الزام عائد

راولاکوٹ (کشمیر ڈیجیٹل)پی ٹی آئی پونچھ کے سینئر رہنما خواجہ عبدالمنیر رحمانی نے دہمنی تا دریڑھ تین کلومیٹر روڈ منصوبے کے سنگ بنیاد پر نام کی تبدیلی کو سنگین سیاسی جعلسازی قرار دیدیا، سردار ضیاء القمر پیپلز پارٹی سردار عابد حسین عابد پر کڑی تنقید ۔

خواجہ عبدالمنیر رحمانی کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پی ٹی آئی کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کے دورِ حکومت میں باقاعدہ منظوری کے تمام مراحل طے کرکے شروع کیا گیا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فوڈ اتھارٹی مظفرآباد کا شہر بھر میں کریک ڈاؤن جاری، گودام سیل

انہوں نے وضاحت کی کہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران مقامی قیادت، بالخصوص سردار نئیر ایوب اور دیگر رہنماؤں کی کاوشوں سے اس سڑک کی ری کنڈیشننگ کے لیے تقریباً 8 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کئے گئے اور باقاعدہ ٹینڈرز بھی جاری کئے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کی حکومت میں وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے سیاسی بنیادوں پر اس سمیت متعدد ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز منسوخ کر دیئے۔

تاہم عدالت نے بعد میں ان ٹینڈرز کو بحال کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پورے منصوبے کا پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت، وزیر تعمیرات ضیاء القمر یا عابد حسین عابد سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی اس دور میں اس منصوبے کی نئی منظوری، ٹینڈر یا ٹھیکہ دیا گیا بلکہ عدالت نے پی ٹی آئی حکومت کے دور کے منظور کردہ اس ٹینڈر کو بحال کر دیا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:جسٹس سردار محمد اعجاز خان کا تاریخی فیصلہ، بیک وقت 600 مقدمات نمٹا دیئے،400 ڈگریاں منسوخ

خواجہ عبدالمنیر رحمانی نے الزام عائد کیا کہ سردار عابد حسین عابد نے ’’سیاسی واردات‘‘ کرتے ہوئے نہ صرف اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا بلکہ تختی پر اصل بانی، پی ٹی آئی کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کا نام ہٹا کر اپنا نام درج کر لیا جو کھلی بددیانتی اور عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی سرکاری استعمال کیلئے الیکٹرک بسیں، موٹر سائیکل خریدنے کی ہدایت

انہوں نے کہا کہ “یہ عمل نہ صرف سیاسی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ عوامی شعور کی توہین بھی ہے۔ ایک ایسے منصوبے کا کریڈٹ چرانا جس کی منظوری، فنڈنگ اور ٹینڈرنگ پہلے ہی مکمل ہو چکی ہو، بدترین مثال ہے۔

پی ٹی آئی پونچھ کی قیادت نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حقائق کو مسخ کرنے اور کریڈٹ چوری کرنے کی اس روش کا فوری نوٹس لیا جائے۔

Scroll to Top