میرپور(کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر کی عدالت العالیہ نے اراضی کے مقدمات کے حوالے سے ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے ایک سینکڑوں کیسز نمٹا دیئے۔
ہائیکورٹ میرپور سرکٹ کے جج جسٹس سردار محمد اعجاز خان نے مسلسل تین ہفتوں کی سماعت کے بعد جمعرات کے روز تقریباً 600 مقدمات کے فیصلے سنادیئے جو عدالتی تاریخ میں ایک منفرد مثال قرار دی جا رہی ہے۔
تفصیلی فیصلے میں عدالت نے ضلع میرپور اور ضلع بھمبر کی سول عدالتوں کی جانب سے شاملات دیہہ اراضی کے مقدمات میں جاری کردہ 400 مصالحتی اور استقراریہ ڈکریاں کالعدم قرار دے دیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کابینہ اجلاس،تعلیمی پیکیج، ایڈھاک و عارضی ملازمین کی ،مدت ،میں توسیع و مستقلی کا ایکٹ منظور
اپنے 54 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ سول کورٹس کو شاملات دیہہ اراضی کے حوالے سے حقِ استقراریہ کی ڈگریاں جاری کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔
عدالت العالیہ نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو آزاد جموں و کشمیر سمیت متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ تمام متاثرہ کیسز کو محکمہ مال کے مروجہ قوانین اور قواعد کے مطابق فوری طور پر نمٹایا جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فنڈز کی عدم فراہمی، چیئرمینز زکواۃ وعشر کمیٹیوں کا مستعفی ہونے کا فیصلہ
فیصلے میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے سابقہ عدالتی نظائر کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ضلع بھمبر میں اسی نوعیت کے کیسز میں 52 استقرار حق کی ڈگریاں منسوخ کی جا چکی ہیں۔
جسٹس سردار محمد اعجاز خان کی جانب سے سینکڑوں مقدمات کی بیک وقت سماعت اور فیصلہ سنانا عدالتی حلقوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عوامی و قانونی حلقوں کی جانب سے اس اقدام کو بھرپور سراہا جا رہا ہے۔




