مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)وزیراعظم فیصل ممتازراٹھور کی زیر صدارت آزاد جموں وکشمیر کابینہ کے اجلاس میں متعدد قراردادوں کو منظور کر لیا گیا۔
قراردادمیں کہا گیا ہے کہ کابینہ کا یہ اجلاس مشرق وسطی کی حالیہ کشیدگی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ رکوانے کیلئے مصالحانہ اور قائدانہ کردار ادا کرنے پر اظہارف تشکر ۔
کابینہ اجلاس میں صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان جناب محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
پاکستان نے اسلام آباد میں یہ اجلاس منعقد کروا کر عالمی امن پسند ملک کا کردار ادا کیا ہے اجلاس سمجھتا ہے کہ پاکستان نے اللہ پاک کے فضل و کرم سے مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے جو کردار ادا کیا ہے وہ اہل پاکستان اور اہل جموں و کشمیر کیلئے قابل فخر ہے۔
اس بے مثال کامیابی اور سبز ہلالی پرچم کی سربلندی سے جہاں اہل پاکستان کے دل خوشی سے معمور ہیں وہیں جموں و کشمیر کے عوام بھی خوشی سے نہال ہیں۔
پاکستان کی یہ بڑی سفارتی کامیابی دنیا میں پاکستان کا نام بلند کر گئی ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے قائدین نے پاکستانی قیادت کو فون کر کے دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔
پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے تناظر میں پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ کا بینہ کے تمام ارکان اس امر کا اعادہ کرتے ہیں کہ بھارتی افواج کی طرف سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا ایک قابل ندمت عمل ہے
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیرکابینہ،ایڈھاک ملازمین کی مستقلی کیلئے قانون لانے کافیصلہ
دستیاب شواہد، حالات و واقعات اور ماضی کے تجربات کو مد نظر رکھتے ہوئے 22 اپریل 2025 پہلگام واقعہ کو ایک منظم، فالس فلیگ آپریشن قرار دیتا ہے، جسے بھارت نے اپنے مذموم سیاسی و فوجی مقاصد کے حصول کے لیے ترتیب دیا۔
کا بینہ اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ مذکورہ واقعہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جسے آپریشن سندور کے تحت آگے بڑھایا گیا، تا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور فوجی کارروائیوں کو جواز فراہم کیا جاسکے۔
کا بینہ بھارت کے ان اقدامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، جن کے تحت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور بلا جواز گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کو سلب کیا جار ہا ہے اور میڈ یا بلیک آؤٹ کے ذریعے حقائق کو چھپایا جارہا ہے۔
کا بینہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ بھارت کا یہ طرز عمل نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ بنیادی انسانی حقوق کیاصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے لہذا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ پہلگام جیسے فالس فلیگ واقعات اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کی فوری طور پر آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور بین الاقوامی سطح پر شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا عالمی سطح پر نوٹس لیا جائے۔ اقوام متحدہ اور علمی برادری کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق، یعنی حق خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
مزید برآں، یہ کا بینہ اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کشمیر کے لیے ہر سطح پر جد و جہد جاری رکھی جائے گی اور ہر فورم پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔
یہ کا بینہ واضح کرتی ہے کہ کشمیر کا مسلہ ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کا حل طاقت یا پروپیگنڈے کیذریعے نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔
ایک اور قراردادمیں کہا گیا کہ کابینہ کا یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے،بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے ۔۔
کشمیریوں کے سیاسی،مذہبی حقوق پامال کئے جا رہے ہیں اور کشمیری سیاسی قیادت جیلوں میں بند ہے۔اجلاس اقوام عالم سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے تاکہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ کابینہ کے یہ اجلاس پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے عالمی میڈیا میں پاکستان کے امن پسند اقدامات کو اجاگر کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی جھلک نظر آئی ہے جس طرح وہ اپنے ملک کو سفارتی محاذ پر اجاگر کرتی تھیں ٹھیک اسی طرح بلاول بھٹو زرداری پاکستان کے امن پسند موقف کو دنیا کے میڈیا میں شاندار انداز میں اجاگر کر رہے ہیں۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ کابینہ کا یہ اجلاس وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں پیپلز پارٹی حکومت کے دور رس سیاسی و ترقیاتی اقدامات پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی حکومت کشمیری عوام کی فلاح وبہبود کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائے گی اور آئندہ انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ حکومت بنا کر عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھے گی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ کابینہ کا یہ اجلاس رواں ماہ میں حریت رہنما شبیر احمد شاہ کو سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود ایک پرانے (1996) کیس میں دوبارہ گرفتار کر نے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
اجلاس بھارتی عدالت کی جانب سے حریت رہنما آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کو عمر قید کی سزا کو ”انصاف کا قتل” قرار دیتا ہے ۔۔
اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ان نظر بندوں کی رہائی کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالیں۔ اجلاس حریت رہنماؤں مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور دیگر رہنماؤں جو دہلی کی تہاڑ جیل سمیت مختلف جیلوں میں طویل عرصے سے قید ہیں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
اجلاس بیمار رہنماؤں کو جیل میں مناسب طبی سہولیات نہ دینے اور ان کی بڑھتی عمر کے باوجود قید میں رکھنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ اجلاس سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا اورخطے میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔
کابینہ کا یہ اجلاس سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل فوجی طاقت کے بجائے کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ بھارت نہتے کشمیریوں پر جاری بھارتی فوجی مظالم کو روکے اور ایران امریکہ مذاکرات سے سبق سیکھتے ہوئے فوجی طاقت کے بجائے بامقصد سفارتکاری اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے نیک نیتی سے مذاکرات کی میز پر آئے۔




