13ویں ترمیم چیلنج کرنیوالوں کو شرم آنی چاہیے، عدالت ختم نہیں کرسکتی، فاروق حیدر

مظفرآباد:سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ کوئی عدالت 13ویں آئینی ترمیم ختم نہیں کر سکتی، میں فریق بننے جا رہا ہوں، کسی کو تحفظات ہیں تو کھل کر سامنے آئے، بیٹھ کر بات کریں،جھاڑیوں سے چھپ کر وار کرنے کے بجائے سامنے آئیں۔

حیدر میموریل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام راجہ حیدر خان کی 60 ویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ کوئی عدالت آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی، عدالتوں کو پہلی پیشی پر اس کو فارغ کردینا چاہیے۔13ویں ترمیم چیلنج کرنیوالوں کو شرم آنی چاہیے، مسلم کانفرنس کی سیکرٹری جنرل، مسلم کانفرنس کے صدر کو شرم آنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللہ سے فاروق حیدر کی ملاقات، آزادکشمیر الیکشن پر تبادلہ خیال

انہوں نے کہا کہ 13ویں ترمیم کی سزا ہمیں الیکشن میں ملی، آزادکشمیر کا موجودہ نظام اتحاد ثلاثہ کی طویل جدوجہد کا ثمر ہے، تیرہویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے،جو خود اس نظام سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔

مہاجرین ہمارا حصہ ہیں، چوہدری غلام عباس، میر واعظ مولانا یوسف اور کے ایچ خورشید کی قبر کے ساتھ دھوکہ نہیں کر سکتا، بہت سارے لوگ چاہتے ہیں کہ میں آئندہ اسمبلی میں نہ ہوں۔

ریاست کے تشخص اور عوامی حقوق کیلئے پہلے بھی جدوجہد کی اور آئندہ بھی اس سے دستبردار نہیں ہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ اسلاف نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ قیام پاکستان سے پہلے کر دیا تھا، پاکستان کے ساتھ الحاق اور تحریک آزادی کشمیر کی جدوجہد کا سفر آج بھی جاری ہے

راجہ فاروق حیدر خان کا مزید کہنا تھا کہ اسلاف کی جدوجہد اور قربانیوں کو یاد رکھنا زندہ قوموں کا شیوہ ہے، راجہ حیدر خان اور ان کے ہم عصر اکابرین نے مشکل ترین حالات کے باوجود نظریاتی منزل کے حصول کیلئے جدوجہد جاری رکھی اور زندگی کی آخری سانسوں تک اُصولوں پر قائم رہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ میں آخری وزیراعظم ہوں اس کے بعد جو وزراعظم آئے ان میں سے کس کے پاس اختیار تھا؟جب کشمیر لبریشن سیل بنا تو راجیو گاندھی نے پاکستان کے وزیراعظم کو شکایت کی میرے بعد اس کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی آزادکشمیر کے نظام کو لپیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 13ویں ترمیم پر جس قلم سے دستخط کئے وہ سنبھال کررکھا ہے،میاں نوازشریف نے بہت شفقت کی جس پر ہم مشکور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فاروق حیدر کو جھٹکا، سردار عتیق خان نے 13ویں آئینی ترمیم چیلنج کردی

پہلے ایک ڈپٹی سیکرٹری وزیراعظم پر بھاری ہوتا تھا ایک دفعہ اس نے خط لکھا کہ حکومت آزادکشمیر ایک چپڑاسی کی آسامی دینے کا اختیار نہیں رکھتی تو قائد مسلم لیگ ن سے شکایت کی تو انہوں نے ناراضگی کااظہار کیا ۔

سرکاری ملازمین کو پتہ ہے کہ پہلے تنخواہ،پنشن کے پیسے نہیں ملتے تھے ،مہاجرین جموں کشمیر ہمارا حصہ ہیں چوہدری غلام عباس کی قبرکے ساتھ دھوکہ نہیں کرینگے ۔

تقریب سے سابق وزراء حکومت سردار فاروق سکندر،راجہ عبدالقیوم خان،بیرسٹر افتخار گیلانی، منظور قادر ایڈووکیٹ، راجہ طارق بشیر ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔

Scroll to Top