الجزیرہ کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مشترکہ فوجی کمانڈ کی جانب سے ایک اہم بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب اپنی سابقہ سخت صورتحال پر واپس آچکا ہے۔ ایرانی حکام نے اس اقدام کی بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی مسلسل بندش کو قرار دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی کمانڈ نے امریکی اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں کی بندش کو “امریکی سمندری ڈاکہ زنی اور چوری” قرار دیا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ صرف امریکہ کے اس معاندانہ عمل کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی صورتحال دوبارہ کشیدگی کی طرف لوٹی ہے اور اب وہاں کی آبی حکمت عملی ایرانی مسلح افواج کی انتہائی سخت نگرانی میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کونسی 3 شرائط پر کھولی گئی؟ایرانی میڈیا نے تفصیلات بتا دیں
Iran’s Khatam al-Anbiya Central Headquarters Spokesperson announced that transit through the Strait of Hormuz has reverted to its previous state of strict military control, citing repeated US violations and piracy under the guise of blockade. pic.twitter.com/Oh0yHcgnBM
— Press TV 🔻 (@PressTV) April 18, 2026
پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر کے مطابق، جب تک امریکہ ایرانی جہازوں کی آمد و رفت کو پوری آزادی کے ساتھ بحال نہیں کرتا، تب تک آبنائے ہرمز میں نگرانی کا یہ سخت سلسلہ برقرار رہے گا۔ اس صورتحال نے عالمی سمندری تجارتی راستوں پر ایک بار پھر تناؤ پیدا کر دیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔




