پیانگ یانگ میں تعلیمی نظام کو مزید سخت بنانے کے لیے ایک غیر معمولی فیصلہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت امتحان میں ناکام ہونے والے طلبہ کو کوئلے کی کانوں یا تعمیراتی مقامات پر کام کے لیے بھیجا جائے گا۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق تعلیمی سال 2026 کے آغاز پر متعارف کرائے گئے نئے اختیاری مضمون میں طلبہ کی بڑی تعداد مطلوبہ معیار پر پورا نہ اتر سکی۔ نئے تعلیمی دور کے آغاز کے ساتھ ہی لیے گئے تخصصی امتحانات میں نمایاں تعداد میں ناکامی کے بعد حکام نے فوری اقدامات کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ میں تعلیم کے بعد 3 سال کام کرنے کا سنہری موقع
اطلاعات کے مطابق حکمران جماعت نے سینئر درجے کے تعلیمی اداروں کے نظام کو مزید سخت بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
صوبائی جماعتی کمیٹی کے محکمہ تعلیم نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو طلبہ مقررہ معیار پر پورا نہیں اتریں گے، انہیں عملی کام کے لیے کوئلے کی کانوں یا تعمیراتی منصوبوں پر تعینات کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سال تمام اعلیٰ درجے کے تعلیمی اداروں میں اختیاری مضمون کا نظام اس لیے نافذ کیا گیا تھا تاکہ طلبہ کی صلاحیتوں اور رجحانات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے، تاہم نتائج توقعات کے برعکس سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز پر نگرانی سخت کردی، امریکی ناکہ بندی کا ردِعمل
رپورٹس کے مطابق فوری طور پر مختلف علاقوں کے تعلیمی اداروں میں معائنہ ٹیمیں بھیج دی گئی ہیں تاکہ تدریسی معیار کا جائزہ لیا جا سکے اور مستقبل میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔




