امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور پاکستان کے مثبت کردار کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے ایریزونا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ ڈیل کا عمل بہت اچھی طرح سے آگے بڑھ رہا ہے اور ویک اینڈ کے دوران بھی بات چیت جاری رہے گی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا ہے۔ ان کے مطابق کافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ باقی رہ جانے والے اختلافات اب زیادہ اہم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جیسے ہی معاہدہ ہوگا، ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے جنگ میں سو فیصد اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
بھی پڑھیں: ایران سے ڈیل اچھی طرح سے جاری، وزیراعظم پاکستان، فیلڈ مارشل کا بہت شکر گزار ہوں، ٹرمپ
جوہری پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔ امریکا ایران کی نیو کلیئر ڈسٹ حاصل کرے گا اور تباہ شدہ جوہری پلانٹ کی باقیات بھی واپس لائی جائیں گی۔ انہوں نے کسی بھی قسم کے مالی لین دین کے امکان کو مسترد کر دیا۔
نیٹو کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نیٹو کی جانب سے کال موصول ہوئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں نیٹو کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں ہماری ضرورت ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے پاکستان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں عظیم شخصیات قرار دیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کے متوقع دورہ پاکستان پر مسئلہ کشمیر پر بات ہونے کاامکان
امن کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت سمیت 8 جنگیں رکوانے کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے خود کو امن پسند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت جنگ روک کر 35 سے 50 ملین لوگوں کی جانیں بچائیں۔




