نیوزی لینڈ میں تعلیم کے بعد 3 سال کام کرنے کا سنہری موقع

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے نیوزی لینڈ کے پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا کے حوالے سے ایک اہم اور خوش آئند بیان جاری کیا گیا ہے۔ جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس ویزا کے لیے اہلیت کا معیار اور درخواست دینے کا طریقہ کار انتہائی آسان بنا دیا گیا ہے۔

نیوزی لینڈ کا یہ خاص ورک ویزا پاکستانی طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہاں تین سال تک قیام کرنے اور ملازمت کرنے کی قانونی اجازت فراہم کرتا ہے۔ بیان میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس ویزا کے ذریعے مستقبل میں نیوزی لینڈ کی مستقل رہائش یعنی ریذیڈنٹ ویزا حاصل کرنے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ امیدوار نے حال ہی میں نیوزی لینڈ سے کوئی منظور شدہ ڈگری یا تعلیمی کورس مکمل کیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا شکریہ، ایران سے ڈیل قریب، کل بڑا سرپرائز مل سکتا ہے: ٹرمپ

درخواست جمع کروانے کے وقت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عام طور پر طلبہ کو اپنا اسٹوڈنٹ ویزا ختم ہونے کے تین ماہ کے اندر درخواست دینا ہوتی ہے۔ تاہم پی ایچ ڈی مکمل کرنے والے افراد کے لیے یہ رعایت چھ ماہ تک دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی طالب علم نے اپنی پہلی ڈگری کے فوری بعد کوئی ایسا اعلیٰ تعلیمی کورس شروع کیا جس کا دورانیہ تین ہفتوں سے کم تھا، تو ان کے پاس اپلائی کرنے کے لیے بارہ ماہ کا طویل وقت موجود ہوتا ہے۔

بیورو آف ایمیگریشن کے مطابق درخواست گزاروں کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ ان کے پاس نیوزی لینڈ میں قیام کے دوران اپنے ذاتی اخراجات پورے کرنے کے لیے کم از کم 5000 نیوزی لینڈ ڈالر کی رقم موجود ہو۔ اس ویزا سے متعلق تمام مستند اور مزید معلومات نیوزی لینڈ کی آفیشل امیگریشن ویب سائٹ سے بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

نیوزی لینڈ کے پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا کے بارے میں مزید معلومات کیلیے اس صفحے پر جائیں

https://www.immigration.govt.nz/visas/post-study-work-visa/

Scroll to Top