میانمار کے صدر من آنگ ہلینگ نے نوبیل انعام یافتہ معزول رہنما آنگ سان سو چی کی قید میں کمی کردی ہے۔ یہ فیصلہ نئے صدر کی جانب سے دی گئی عام معافی کا حصہ ہے جنہوں نے 5 سال قبل فوجی بغاوت کے ذریعے 80 سالہ رہنما کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
80 سالہ آنگ سان سوچی 27 سال قید کی سزا کاٹ رہی تھیں جو متعدد الزامات پر مشتمل تھی۔ ان کے حامیوں کے مطابق یہ الزامات سیاسی نوعیت کے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کونسی 3 شرائط پر کھولی گئی؟ایرانی میڈیا نے تفصیلات بتا دیں
جن میں بغاوت پر اکسانا، بدعنوانی، انتخابی دھاندلی اور ریاستی راز افشا کرنے جیسے مقدمات شامل تھے، جن کا مقصد انہیں سیاسی میدان سے دور رکھنا تھا۔
نوبیل امن انعام یافتہ رہنما کے وکیل کے مطابق ان کی سزا کا تقریباً چھٹا حصہ معاف کیا گیا ہےتاہم یہ واضح نہیں کہ نوبیل امن انعام یافتہ رہنما کو باقی سزا گھر میں نظر بندی کے تحت کاٹنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔
آنگ سان سو چی نے ان الزامات کو لغو قرار دیا تھا۔ طویل عدالتی کارروائیوں کے اختتام کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئیں اور ان کی موجودہ جگہ بھی نامعلوم ہے۔
اس سے قبل سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر من آنگ ہلینگ نے 4335 قیدیوں کے لیے عام معافی کی منظوری دی ہے جو گزشتہ 6 ماہ کے دوران تیسری بار ایسا اقدام ہے۔
میانمار میں عموماً یومِ آزادی یعنی جنوری اور نئے سال یعنی اپریل کے موقع پر قیدیوں کو معاف کیا جاتا ہے۔رہا ہونے والوں میں سو چی کے قریبی ساتھی ون منٹ بھی شامل ہیں، جو 2018 سے 2021 کی فوجی بغاوت تک صدر رہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا : اے آئی کی غلطی، بزرگ خاتون کو 6 ماہ جیل میں قید کاٹنا پڑی
سرکاری نشریاتی ادارے ایم آر ٹی وی کے مطابق انہیں مخصوص شرائط کے تحت معافی اور باقی سزا میں کمی دی گئی ہے۔فوجی حمایت یافتہ حکومت کے ترجمان نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ان اقدامات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ آنگ سان سوچی سمیت تمام من مانی طور پر حراست میں لیے گئے افراد کی فوری رہائی کے لیے بامعنی کوششیں ضروری ہیں۔
ان کے ترجمان کے مطابق پائیدار سیاسی حل کے لیے فوری طور پر تشدد کا خاتمہ اور جامع مکالمے کے لیے سنجیدہ عزم ناگزیر ہے، تاکہ میانمار کے عوام اپنے سیاسی حقوق آزادانہ اور پرامن طریقے سے استعمال کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:شکریہ پاکستان، شکریہ وزیراعظم، شکریہ فیلڈمارشل، امریکی صدرٹرمپ کا پیغام
یاد رہے کہ 2021 میں من آنگ ہلینگ کی قیادت میں ہونے والی فوجی بغاوت کے نتیجے میں سوچی اور ون منٹ کی منتخب حکومت کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ گیا، جو تاحال جاری ہے۔




