خاتون

امریکا : اے آئی کی غلطی، بزرگ خاتون کو 6 ماہ جیل میں قید کاٹنا پڑی

نیویارک: امریکی ریاست ٹینیسی سے تعلق رکھنے والی ایک عمر رسیدہ خاتون کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فیشل ریکگنیشن سافٹ ویئر کی غلطی کے باعث تقریباً 6 ماہ جیل میں گزارنے پڑ گئے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 14 جولائی 2025ء کو پیش آیا، جب پولیس نے اینجلا لپس نامی خاتون کو ان کے گھر سے اس وقت گرفتار کیا جب وہ بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھیں ۔

پولیس نے انہیں شمالی ڈکوٹا میں پیش آنے والے ایک بینک فراڈ کیس میں مطلوب قرار دیا حالانکہ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ کبھی اس ریاست گئی ہی نہیں تھیں ۔

بعد ازاں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اصل ملزمہ کی شناخت کے لیے استعمال کیے گئے فیشل ریکگنیشن سسٹم نے غلطی سے اینجلا لپس کو مشتبہ قرار دے دیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اے آئی سمٹ میں بھارتی یونیورسٹی کی جعلسازی، چینی روبوٹ کو اپنا بنا کر پیش کردیا

افسوسناک امر یہ تھا کہ پولیس نے اس ٹیکنالوجی کے نتائج پر مکمل انحصار کرتے ہوئے مزید تصدیق کے بغیر ہی انہیں گرفتار کر لیا ۔

گرفتاری کے بعد اینجلا کو تین ماہ تک ٹینیسی کی جیل میں رکھا گیا، جس کے بعد انہیں شمالی ڈکوٹا منتقل کر دیا گیا جہاں وہ مزید حراست میں رہیں ۔

بالآخر دسمبر 2025ء میں عدالت نے ان کیخلاف تمام الزامات ختم کر دیے، جب بینک ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ واردات کے وقت وہ ٹینیسی میں موجود تھیں جو جائے وقوعہ سے تقریباً 1200 میل دور ہے ۔

کرسمس کے موقع پر رہائی کے باوجود اینجلا کو نہ تو کوئی معافی دی گئی اور نہ ہی گھر واپسی میں مدد فراہم کی گئی ۔ ایک غیر سرکاری تنظیم نے ان کی مدد کرتے ہوئے انہیں واپس ٹینیسی پہنچایا ۔ اس دوران وہ مالی مشکلات کے باعث اپنا گھر اور پالتو جانور بھی کھو بیٹھی تھیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے حیران کن پیشگوئی

اب ان کے وکیل اس معاملے پر شہری حقوق کے تحت قانونی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، جبکہ اینجلا کا کہنا ہے کہ وہ اس آزمائش کے خاتمے پر شکر گزار ہیں اور آئندہ کبھی شمالی ڈکوٹا کا رخ نہیں کریں گی ۔