راولاکوٹ (بیورو رپورٹ)آل آزاد کشمیر کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے 25 اپریل تک ادائیگیاں نہ ہونے کی صورت میں مکمل بائیکاٹ اور سرکاری ترقیاتی منصوبے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔۔
غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی جنرل سیکرٹری سردار جمیل عالم، ضلعی صدر سردار وحید خان اور دیگر رہنماؤں اسرار خان، قیوم عثمانی، ظہیر، جنت محمد، افتخار محمد، نثار خان، احتشام حسین، محمد جبار، سرفراز خان، نصیر خان، شاہد منظور، ناظم حسین، اورنگزیب خان، چوہدری محمد نصیر، اسلم نقی خان، افتخار خان اور محمد اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال سے کنٹریکٹرز کو ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں جس کے باعث ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر 25 اپریل تک واجبات ادا نہ کیے گئے تو کوئی بھی کنٹریکٹر سرکاری منصوبوں پر کام نہیں کرے گا اور مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت لیت و لعل سے کام لے رہی ہے جبکہ دوسری جانب عوام تاخیر کا ملبہ کنٹریکٹرز پر ڈال کر انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور کا محکمہ خواراک کو معیاری گندم اور آٹا فراہم کرنے کا حکم
کنٹریکٹرز رہنماؤں نے مزید کہا کہ پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باوجود ان سے پرانے ریٹس پر کام لیا جا رہا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 20 ارب روپے کے ٹینڈرز موجود ہیں لیکن حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے محض ڈیڑھ ارب روپے مختص کئے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دیگر اضلاع میں باقاعدہ فنڈز جاری کیے گئے جبکہ پونچھ ڈویژن کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر واجبات کی ادائیگی، فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور کنٹریکٹرز کے مسائل کا ہنگامی بنیادوں پر حل یقینی بنایا جائے۔
بصورت دیگر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی اور جاری ترقیاتی کام مکمل طور پر روک دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی سیزن شروع ہو چکا ہے، حکومت مزید تاخیر سے گریز کرے۔
پریس کانفرنس کے دوران کنٹریکٹرز نے اپنے مطالبات تفصیل سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام ورکرز کی اجرت کی مد میں 100 فیصد ادائیگیاں کی جائیں جو گزشتہ 3 سے 4 سال سے زیر التواء ہیں اور اب تک محض جزوی ادائیگیاں ہی کی گئی ہیں ۔۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ KDP کے تحت جاری منصوبوں میں Escalation کی مد میں ادائیگیاں فوری طور پر کی جائیں اور MB میں اس کا اندراج کر کے کلیئر کیا جائے کیونکہ تاحال کسی کنٹریکٹر کو اس مد میں ادائیگی نہیں کی گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:باجوڑ:افغان طالبان کی سول آبادی پر گولہ باری ،بچوں سمیت 3 افرادشہید،پاک فوج کا بھرپور جواب
اسی طرح KDP اور TKP فیز 12، 13 اور 14 کے تحت جاری منصوبوں میں جہاں Escalation اور تکمیل کی منظوری نہیں دی گئی، فوری منظوری دی جائے تاکہ کنٹریکٹرز کام مکمل کر سکیں، کیونکہ ان منصوبوں پر پہلے ہی بھاری لیبر لاگت اور عوامی رقوم خرچ ہو چکی ہیں ۔
کنٹریکٹرز نے مزید کہا کہ موجودہ مہنگائی کے تناسب سے ٹینڈرز کے ریٹس میں اضافہ ناگزیر ہے، بصورت دیگر ٹھیکیدار 100 فیصد کام مکمل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس لئے نئے ٹینڈرز کی منظوری سے قبل ریٹس کو موجودہ مارکیٹ کے مطابق کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ADP کے تحت جاری منصوبوں میں کام کی تکمیل کے ساتھ ادائیگی یقینی بنائی جائے، جبکہ دیگر اضلاع میں 50 سے 60 فیصد تک فنڈز رکھے جاتے ہیں لیکن ضلع پونچھ میں صرف 30 فیصد مختص کیے جاتے ہیں جو شدید ناانصافی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پونچھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز میں نمایاں اضافہ کیا جائے تاکہ کام متاثر نہ ہوں رہنماؤں نے واضح کیا کہ جب تک کنٹریکٹرز کو ان کے واجبات کی 100 فیصد ادائیگی نہیں کی جاتی اور جاری منصوبوں کیلئے مناسب فنڈز فراہم نہیں کئے جاتے اس وقت تک ضلع پونچھ میں نئے ٹینڈرز کے عمل میں کوئی بھی کنٹریکٹر حصہ نہیں لے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اپنے مطالبات پر مشتمل متفقہ قرارداد چیف انجینئر کو بھی پیش کر دی گئی ہے اور امید ظاہر کی کہ حکومت جلد مثبت پیش رفت کرے گی، بصورت دیگر کنٹریکٹرز سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کریں گے #




