آزاد کشمیر میں 13ویں آئینی ترمیم کے خلاف قانونی محاذ مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آزاد کشمیر نے اس ترمیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عدالت میں دائر رٹ پٹیشنز میں باقاعدہ فریق بننے کی درخواست دے دی ہے۔ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ آفتاب خان ایڈووکیٹ اور سینئر قانون دان قمر عالم اعوان ایڈووکیٹ نے اس حوالے سے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔
ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 13ویں آئینی ترمیم نہ صرف آئینی تقاضوں کے برعکس ہے بلکہ اس کے ذریعے اختیارات کے توازن کو بھی متاثر کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بار ایسوسی ایشن آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ ریاستی خودمختاری کے تحفظ کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آزادکشمیر:پٹواریوں کی بھرتی انکوائری ، ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ بار کی اس حالیہ پیش رفت کے بعد یہ معاملہ مزید اہم اور حساس ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس کے دور رس آئینی اور سیاسی اثرات مرتب ہونے کا قوی امکان ہے۔ بار ایسوسی ایشن کے اس فیصلے سے 13ویں ترمیم کے خلاف جاری قانونی جدوجہد کو ایک نئی قوت ملی ہے۔




