سپریم کورٹ آزادکشمیر:پٹواریوں کی بھرتی انکوائری ، ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان اورسینئر جج جسٹس رضا علی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں اہم کیس کی سماعت کی ۔

سپریم کورٹ نے سدھنوتی کے پٹواریوں کی فراغت سمیت 1991 کے بعد جملہ پٹواریوں کی بھرتی کی انکوائری کی نسبت ہائی کورٹ کےفیصلے کو معطل کر دیا ۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سیکیورٹی اداروں کی بڑی کارروائی: ’’را‘‘ کیلئے جاسوسی کرنیوالے تین افراد گرفتار

ہائیکورٹ آزاد جموں کشمیر نے 1991 کے بعد بھرتی ہونے والے ایسے جملہ پٹواریوں جن کی تقرریاں بدوں ایڈورٹائزمنٹ عمل میں لائی گئی تھیں کا ریکارڈ طلب کر لیا تھا اور ضلع سدھنوتی کے 9 پٹواریوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا تھا۔

متاثرہ پٹواریوں کی جانب سے معروف قانون دان بیرسٹر ہمایوں نواز نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی عدالت نے اپیل سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کی قیمتوں میں اتنا اضافہ ہوگا کہ موجودہ ریٹس نعمت لگیں گے، ایرانی اسپیکر کی وارننگ

واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے مقدمہ عنوانی اعظم رؤوف بنام ڈپٹی کمشنر سدھنوتی میں اپنے فیصلہ میں ایسے جملہ پٹواریوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:جواد احمد قتل کیس: لاپتہ طالب علم کی لاش گلپور ڈیم سے برآمد، ملزمان گرفتار

اس حکومتی فیصلے کوہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جبکہ 1991 کے بعد بغیر ایڈورٹائزمنٹ کے بھرتی ہوئے تھے انکی نسبت انکوائری کا حکم دیا گیا تھا 1991کے بعد بھرتی ہونے والے ضلع سدھنوتی پٹواریوں کی ابتدائی تقریاں کالعدم قرار دے دی گئی تھیں۔

ہائی کورٹ نے قبل ازیں بغیر اشتہار بھرتی ہونے والے پٹواریوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے 9 پٹواریوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا تھا، جبکہ دیگر بھرتیوں کی انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔

متاثرہ پٹواریوں کی جانب سے بیرسٹر ہمایوں نواز نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، جسے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے عدالت نے ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔

Scroll to Top