پاکستان پریشان نہ ہو، سعودی ولی عہد کی جانب سے 3 ارب ڈالرز ڈپازٹ کرانے کا اعلان

پاکستان کے ساتھ برادرانہ اور خصوصی تعلقات کے ایک اہم اظہار کے طور پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی خطیر مالی معاونت بطور ڈپازٹ دینے کا پیغام دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے مسلسل عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ولی عہد نے چند روز قبل سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ کو خصوصی طور پر مختصر دورے پر پاکستان بھیجا تاکہ وہ پاکستانی قیادت کو ولی عہد شہزادہ کی جانب سے یقین دہانی کرا سکیں۔ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ایک خلیجی ملک کی جانب سے تقریباً 3 ارب ڈالر کی واپسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زرمبادلہ کے ممکنہ خلا پر پاکستان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ سعودی عرب،آئندہ 48 گھنٹے اہم

ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے کا کہنا تھا کہ اس دورے کا واحد مقصد پاکستان کی قیادت کو مضبوط یقین دہانی کرانا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں پیدا ہونے والے خلا کو پورا کرنے کے لیے آگے بڑھے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک دوست خلیجی ملک پاکستان کے ذخائر سے 3 ارب ڈالر سے زائد کی اپنی رقم واپس لے رہا ہے۔ اس کے جواب میں سعودی عرب نے مساوی مالیت اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں بطور ڈپازٹ رکھنے کا وعدہ کیا ہے تاکہ ملک کے ذخائر کی سطح مستحکم رہے۔ حکام نے اس اقدام کو سعودی قیادت کی جانب سے ایک ’’غیر معمولی اقدام‘‘ قرار دیا جو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک اعتماد اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: گوادر میں سعودی عرب کی بڑی سرمایہ کاری: 10 ارب ڈالر سے آئل ریفائنری کے قیام کا امکان

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پہلے ہی سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی قیادت خواہ سول ہو یا عسکری سعودی ولی عہد شہزادے کی جانب سے اس خصوصی اور ذاتی اقدام پر بے حد مشکور ہے۔ اس تعاون سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا اور معاشی استحکام برقرار رہے گا۔

Scroll to Top