مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی ایک درخواست کی سماعت کے دوران بینک آف آزاد جموں و کشمیر کے صدر/چیف ایگزیکٹو آفیسرسی ای او کی تعیناتی میں تاخیر پر حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے حکومت کو تعیناتی کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دیدی ہے۔
عدالت نے ایک حکم میں حکومت کو واضح ہدایت دی تھی کہ وہ بینک کے مستقل سربراہ کی تعیناتی یقینی بنائے، اس ہدایت کے باوجود کوئی اقدام نہ ہونے پر حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چناری ویڈیو اسکینڈل: پولیس کی فوری کارروائی، مقدمہ درج، تفتیش شروع
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فیصل گیلانی اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ کلیم آفسر نے آج عدالت میں سماعت کے دوران پیش ہو کر موقف پیش کیا کہ تعیناتی کے عمل میں تاخیر انتظامی پیچیدگیوں اور قانونی کارروائیوں کی وجہ سے ہوئی ہے، تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانونی ہدایت کی خلاف ورزی قابل قبول نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ بینک آف آزاد جموں و کشمیر جیسے اہم مالیاتی ادارے میں قیادت کی عدم دستیابی نہ صرف ادارے کے نظم و نسق کو متاثر کرتی ہے بلکہ عوامی مفاد اور اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی پذیرائی، ٹرمپ کا اسرائیل کو لبنان پر حملے بند کرنے کا حکم
اس لئے عدالت نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت کے اندر تعیناتی عمل میں نہ آئی تو توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی۔
اس فیصلے کا مقصد صرف قانونی ہدایات کی تکمیل نہیں بلکہ بینک آف آزاد جموں و کشمیر میں مضبوط قیادت کے ذریعے مالیاتی استحکام اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانا ہے۔




