فاروق حیدر کو جھٹکا، سردار عتیق خان نے 13ویں آئینی ترمیم چیلنج کردی

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے 13 ویں آئینی ترمیم ہائی کورٹ آزاد کشمیر میں چیلنج کر دی ۔

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر، صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان اور جنرل سیکرٹری مسلم کانفرنس محترمہ مہرالنساء کی جانب نے سنیئر وکلاء سردار عبد الرازق خان ، سردار عبد السمیع خان، راجہ گل مجید خان، نجم الثاقب کیانی ، راجہ ذکی جبار ، عبدالصمد خان اور عمر رفیق مغل ایڈووکیٹس کے ذریعہ ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کردی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:برطانوی اخبار ٹیلی گراف نےفیلڈ مارشل عاصم منیر کو عالمی امن کا سفیر قرار دیدیا

دائر کردہ رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا ہے کہ 13 ویں آئینی ترمیم ،ترمیم کے اصل ڈرافٹ سے ہٹ کر گئی ہے جو آئین و قانون کی صریحا خلاف ورزی ہے ۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ترمیم ڈرافٹ کی روح کے مطابق یقینی بنائی جائے، واضح رہے کہ یکم جون 2018ء کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں عبوری آئین 1974ء میں 13ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی گئی تھی۔

جبکہ اس سے ایک روز قبل 31 مئی 2018ء کو پاکستان کی وفاقی کابینہ بھی اس ترمیم کی منظوری دے چکی تھی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی سفارتی کامیابی، سرینگر سے کشمیری نوجوان کا فیلڈ مارشل کے نام اہم پیغام جاری

یوں یہ آئینی ترمیم باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گئی۔ یہ پیش رفت سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے دور حکومت میں ممکن ہوئی تھی، جس کا بنیادی مقصد آزاد کشمیر حکومت کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا تھا۔

اس ترمیم کے ذریعے آزاد کشمیر کونسل کے پاس موجود بیشتر مالیاتی، انتظامی اور قانون سازی کے اختیارات واپس آزاد کشمیر حکومت کو منتقل کر دیئے گئے تھے ۔

جس کے نتیجے میں منتخب نمائندوں کو پالیسی سازی اور وسائل کے استعمال میں زیادہ اختیار حاصل ہوا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:دیوان علی چغتائی ، چوہدری رشیدکو جھٹکا، ن لیگی کارکنوں کا پیرا شوٹر کو قبول کرنے سے انکار

ٹیکس وصولی، بجٹ سازی اور ترقیاتی منصوبہ بندی جیسے اہم امور پر اب آزاد کشمیر حکومت کو براہ راست کنٹرول حاصل ہو گیا۔۔

جبکہ کونسل کا کردار محدود ہو کر زیادہ تر مشاورتی نوعیت کا رہ گیا، اس ترمیم کے تحت قانون سازی کے دائرہ کار میں اضافہ کیا گیا اور اسمبلی کو مضبوط بنایا گیا جس سے حکومتی کارکردگی میں بہتری اور عوامی مسائل حل میں تیزی آنے کی توقع کی گئی ہے ۔

یہ ترمیم نہ صرف انتظامی ڈھانچے میں توازن لانے کا باعث بنی بلکہ وفاق اور آزاد کشمیر کے درمیان اختیارات کی تقسیم کو بھی زیادہ واضح اور منصفانہ بنایا گیا۔

بلاشبہ 13ویں آئینی ترمیم آزاد کشمیر کی آئینی و سیاسی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے، جس نے خطے میں خودمختاری، مؤثر حکمرانی اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔اس رٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ترمیم اصل ڈرافٹ سے ہٹ کر گی گئی ہے

Scroll to Top