حویلی (کشمیر ڈیجیٹل) رواں تعلیمی سال سے قبل بوائز ہائی سکول مندھار میں طالبات کے نئے داخلوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مندھار میں بچیوں کا سکول نہ ہونے کے باعث طالبات بوائز سکول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جہاں کمبائنڈ تعلیم دی جارہی ہے ۔
حکومتی فیصلے پر علاقے میں بحث چھڑ گئی ۔ سکول انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام حالات کے پیش نظر کیا گیا، تاہم مقامی افراد اسے ایک اہم سماجی مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ناظم تعلیمات آزادکشمیر کا طلباء پر کاپیوں کا بوجھ کم کرنے کیلئے بڑا حکم جاری
قیام کے بعد سے اب تک، یعنی تقریباً 77 سال گزرنے کے باوجود مندہار میں گرلز ہائی سکول قائم نہیں کیا جا سکا جس کے باعث کئی نسلوں کی بچیاں بوائز سکول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور رہیں۔
اب نئی طالبات کے داخلے پر پابندی نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔مقامی شہریوں نے اس فیصلے کو عوام کو بیدار کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مطالبہ کردیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مشرق وسطیٰ کی جنگ رکوا کر دنیا کو تباہی سے بچالیا، کشمیری عوام
عوام علاقہ کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندوں سے جواب طلب کیا جائے اور علاقے میں فوری طور پر گرلز ہائی سکول کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔
عوام علاقہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بوائز ہائی سکول مندہار میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے جہاں طالبات کیلئے مناسب فرنیچر تک دستیاب نہیں اور بچے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
شہریوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیم کے شعبے کو ترجیح دی جائے، بصورت دیگر عوام احتجاج اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔
عوام کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یا تو تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں یا پھر اس ناانصافی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے۔




