شوکت نواز میر 48گھنٹے میں ایف آئی آر کی درخواست واپس لیں، پی ایف یو جے کا الٹی میٹم

لاہور :پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر رانا محمد عظیم، سیکرٹری جنرل شکیل احمد، سیکرٹری فنانس شہر بانو اور ارکان فیڈرل ایگزیکٹو کونسل نے آزاد کشمیر میں صحافیوں کیخلاف بے جا ایف آئی آر درج کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آزاد کشمیرکے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہےاور 48 گھنٹوں میں ایف آئی آر واپس لینے کا الٹی میٹم دیدیا ہے۔

پی ایف یو جے لیڈر شپ کا کہنا ہے کہ ذمہ دارانہ صحافت کرتے ہوئے سوال پوچھنا صحافی کا استحقاق ہے اور اس پر جواب دینا حکومتی عہدیداران کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر اپنے اوپر لگائے گئے سوالات کا جواب دینے کی بجائے الٹا صحافیوں کے خلاف کارروائی انتہائی ناقابل قبول ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شوکت نواز میر کی اینکر مجتبی بٹ کیخلاف درخواست،سینئر صحافی خواجہ اے متین کا سخت ردعمل

واقعات کے مطابق آزاد کشمیر کے ذمہ دار شوکت نواز میر پرایک انٹرویو میں کچھ الزامات لگائے گئے اورسوالات پوچھے گئے اور انہوں نے اس کا جواب دینے کی بجائے صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر کٹوانے کے لئے پولیس سٹیشن میں درخواست دائر کردی ہے جس پر آزادکشمیر میں صحافی برادری اور سول سوسائٹی سراپا احتجاج ہے۔

صحافیوں کا موقف ہے کہ حکومت اس معاملہ کی مکمل غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

پی ایف یو جے لیڈرشپ نے آزاد کشمیر کے صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اس طرح کے اقدامات آزادئی صحافت کے خلاف ہیں اور صحافیوں کی آواز دبانے کے مترادف ہے جو ناقابل قبول ہے۔

پی ایف یو جے لیڈرشپ نے حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سچ سامنے لانے والے صحافیوں کے خلاف کسی کارروائی سے اجتناب کرے اور شوکت نواز میر کے خلاف تحقیقات کر کے سچ سامنے لایا جائے بصورت دیگر پی ایف یو جے ملک بھر میں احتجاج کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: شوکت نواز میر کی جانب سے مجتبیٰ بٹ پر ایف آئی آر کی درخواست، صحافتی حلقوں کا شدید ردعمل

ادھر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر رانا محمد عظیم نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ مجھے اس وقت انتہائی افسوس ہوا جب شوکت نواز میر نے سینئر صحافی ابرار حیدر شاہ اور مجتبیٰ بٹ کیخلاف سوال پوچھنے پر ایف آئی آر کی درخواست دیدی۔

انہون نے کہا کہ میں بطور صدرپاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اس اقدام کی مذمت کرتا ہوں، شوکت نواز میر کی کوششیں اپنی جگہ لیکن ایف آئی آر کی صورت میں آزادی صحافت پر حملہ برداشت نہیں ہے۔

رانا عظیم نے کہا کہ شوکت نواز میر اس پر معافی نہ مانگی اور ایف آئی آر درخواست واپس نہ لی اور ایکشن کمیٹی نے شوکت نواز میر کیخلاف ایکشن نہ لیا تو پاکستان ودنیا بھر کے صحافی بھرپور احتجاج کریں گے، ہم اوچھے ہتھکنڈے برداشت نہیں کرینگے۔

انہوں نے آزادکشمیر کی حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا اور شوکت نواز میر کو 48گھنٹے کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہا کہ 48گھنٹے میں ایف آئی آر واپس نہ ہوئی تو بھرپور احتجاج کیا جائیگا۔

 

Scroll to Top