توانائی بحران پر قابو پانےکیلئےحکومت کا مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا اصولی فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے کیلئےاصولی طور پر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ملک بھر میں مارکیٹیں اور تجارتی مراکز رات 8 بجے بند کیے جائیں گے ۔

وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں خطے، خصوصاً مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پیدا ہونے والے ہنگامی حالات اور توانائی کے مسائل کا جائزہ لیا گیا ۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کفایت شعاری کے اقدامات کو مزید سخت کیا جائے تاکہ توانائی کی بچت ممکن ہو سکے ۔

اس ضمن میں فیصلہ کیا گیا کہ کاروباری مراکز، بازار اور مارکیٹیں رات 8 بجے بند کی جائیں گی۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور اس کا باقاعدہ اعلان صوبائی حکومتیں خود کریں گی ۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، مختلف وفاقی وزراء، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی ۔

اجلاس کے دوران توانائی کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اسحاق ڈار نے اپنے دورہ چین کے حوالے سے آگاہ کیا جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مشرقِ وسطیٰ صورتحال: وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، اہم گفتگو

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے قومی یکجہتی، اتحاد اور سیاسی استحکام ناگزیر ہیں تاکہ ان چیلنجز کا مل کر مقابلہ کیا جا سکے ۔

انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مراعات یافتہ طبقہ بھی قربانی دے، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کم ترجیحی منصوبوں کو روک کر عام آدمی کو ریلیف فراہم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کفایت شعاری کے ذریعے وسائل جمع کرنا ہوں گے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے اور پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کو تحفظ دینا ضروری ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات عام لوگوں پر کم سے کم پڑیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان جنگ بندی کیلئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور اُمید ظاہر کی کہ ان کوششوں میں کامیابی حاصل ہوگی ۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ اور عسکری قیادت کی کوششوں سے پاکستان کے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے کامیابی سے گزر چکے ہیں جبکہ مزید 20 جہازوں کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں اور جلد پیش رفت متوقع ہے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں کیلئے ایک بڑا بوجھ تھا، تاہم قوم نے اسے برداشت کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اقدامات کے ذریعے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی گئی ۔

انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ تین ہفتوں میں 129 ارب روپے کا مالی بوجھ خود اٹھایا جبکہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں 100 ارب روپے کی کمی بھی کی گئی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اپنا گھر بنانے کیلئے آسان شرائط پر قرض، وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا اعلان

آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ وقت قومی سطح پر یکجہتی اور تعاون کا ہے اور انہوں نے کفایت شعاری مہم میں صدر، سیاسی قیادت اور ارکان پارلیمنٹ کے کردار کو سراہا ۔