اسلام آباد:ماہر معاشی امور خاقان نجیب نے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے پہلے تو بین الاقوامی سطح پر یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے ایک مراسلہ آیا ہےجس کے بعد صورتحال کچھ حد تک واضح ہو گئی ہے کہ جنگ اگلے تین ہفتوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
جس طریقے سے ہم آگے بڑھ رہے تھے، میں نہیں سمجھتا کہ یہ کسی بھی طرح پاکستان کے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔
یہ بھی پڑھیں:موٹرسائیکلز،مسافر ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں کیلئے سبسڈی کا اعلان، رعایت کیسے ملے گی؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خاقان نجیب نےکہا کہ آج حکام کو یہ بتانا چاہیے تھا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی سالانہ فروخت میں 19 فیصد کا اضافہ اور ماہانہ فروخت میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے، یعنی 1.4 ملین ٹن جو پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر روش ہی تبدیلی نہیں ہوئی اور 1973 کے بعد سب سے بڑا عالمی تیل اور قیمتوں کا جھٹکا آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی کئی چینلز کے ذریعے پڑ رہے ہیں، تو میرے حساب سے 55 روپے کے بعد ہر ہفتے قیمت میں بتدریج تبدیلی آنی چاہیے تھی۔
خاقان نجیب کا کہنا تھا کہ دنیا میں بھی یومیہ قیمتوں میں تبدیلی آتی ہے،آسٹریلیا میں یومیہ قیمتیں ایک ڈالر فی گیلن سے زیادہ تبدیل ہو چکی ہیں۔ ہم نے یہ قیمتیں بڑھانے میں پہلے ہی کافی تاخیر کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پٹرولیم قیمتوں میں بڑا اضافہ،پٹرول 458 ،ڈیزل 520روپے مقرر
انہوں نے کہا کہ بلینکٹ سبسڈی یعنی غیر امتیازی سبسڈی سب سے نقصان دہ ہے کیونکہ آپ 1800 سی سی والی گاڑی والے کو بھی وہی سبسڈی دے رہے ہیں جو آپ موٹر سائیکل والے کو دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی آپ نے ملک کو Blanket subsidy میں رکھا ہے تو مالیاتی خسارے بڑھے ہیں۔



