بیٹھک اعوان آباد (کشمیر ڈیجیٹل)حکومت کی جانب سے نجی اسکولوں میں یکساں نصابی کتب اور مانیٹرنگ کے حوالے سے واضح ہدایات کے باوجود متعدد پرائیوٹ سکول قوانین کی دھجیاں بکھیرنے لگے۔
نجی سکولوں کے مالکان قوانین کو پامال کرتے ہوئے طلبہ و والدین پر مخصوص دکانوں سے مہنگی کتابیں اور مونوگرام کاپیاں خریدنے کا دباؤ ڈالنا جاری رکھا ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے یہ واضح کیا تھا کہ کوئی بھی اسکول طلبہ کو مخصوص اسٹیشنری یا کتابیں مخصوص دکانوں سے لینے پر مجبور نہیں کرے گا۔
تاہم بیٹھک اعوان آباد میں واقع متعدد نجی تعلیمی ادارے اس حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق نہ صرف یہ کہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کو مخصوص پرائیوٹ بکس والوں سے کتابیں خریدنے کا کہا جا رہا ہے بلکہ اسکول ٹیچرز بھی بچوں کو زبردستی پرائیوٹ کتابیں منگوا کر فروخت کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ریسکیو 1122 کے ملازمین کی جیت؛ حکومت نے بڑامطالبہ مان لیا، نوٹیفکیشن جاری
ذرائع کے مطابق ان اسکولوں کی تجویز کردہ کتابوں اور کاپیوں پر 35 سے 40 فیصد تک منافع کمایا جا رہا ہے جبکہ والدین سے پوری قیمت وصول کی جاتی ہے۔
اس حوالے سے جب تفتیش کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ اسکول انتظامیہ اور بعض کتاب فروشوں کے درمیان باہمی مفاد کی بنیاد پر یہ کاروبار کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں غریب اور متوسط طبقے کے والدین شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔
علاقے کے والدین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اسکول کی طرف سے مونوگرام کاپیوں اور مخصوص کتابوں کے نام بتا کر انہیں مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے جبکہ مارکیٹ میں یہی اشیاء کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ریسکیو 1122 کے ملازمین کی جیت؛ حکومت نے بڑامطالبہ مان لیا، نوٹیفکیشن جاری
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اعلان کے باوجود اسکول انتظامیہ اسے ہوا میں اڑا رہی ہے۔متاثرہ والدین اور شہریوں نے محکمہ تعلیم کے ذمہ داران سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی کاروبار کا دھندا فوری طور پر بند کیا جائے اور حکومتی اعلان پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر چند روز میں اس معاملے کو حل نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔اس معاملے پر جب نامہ نگار نے چند اسکولوں کے انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو کوئی باضابطہ جواب نہ دیا جا سکا۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم جلد اس حوالے سے کارروائی کر سکتا ہے، کیونکہ اس طرح کے واقعات نہ صرف تعلیمی پالیسیوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ عوام میں حکومت کے احکامات پر عدم اعتماد بھی پیدا کر رہے ہیں۔




