عالمی سفارتی محاذ سے ایک انتہائی اہم اور حیران کن خبر سامنے آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے یا ڈیل کی صورت میں پاکستان سے ضمانت طلب کر لی ہے۔ یہ انکشاف بیرون ملک مقیم معروف ایرانی دانشور اور تجزیہ نگار ولی نصر نے کیا ہے۔
ولی نصر کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری پس پردہ رابطوں اور کسی بھی متوقع ڈیل کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے تہران نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے ضامن کے طور پر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی ایک حالیہ پوسٹ میں اس حساس معاملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورہ بیجنگ بھی اسی کڑی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
Iran has asked for guarantees in any deal with US. Word is that Pakistan Foreign Minister is going to Beijing to get a guarantor for the potential deal. Likely that is Iran’s condition for talks with US. And FM would not be going to China without having floated the idea with both…
— Vali Nasr (@vali_nasr) March 30, 2026
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ آبنائے ہرمز کھلے بغیر ہی ایران جنگ ختم کرنے پر آمادہ، امریکی اخبار
ان کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار بیجنگ اس لیے جا رہے ہیں تاکہ کسی امکانی ڈیل کی صورت میں چین سے بھی ضروری ضمانت حاصل کی جا سکے۔ ولی نصر نے مزید واضح کیا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار چین روانگی سے قبل ڈیل کی ان ضمانتوں کے حوالے سے امریکہ اور چین دونوں کے اعلیٰ حکام سے پہلے ہی تفصیلی بات چیت کر چکے ہوں گے۔
ایرانی دانشور کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں چین عالمی سطح پر جنگ بندی اور سفارتی کوششوں میں فرنٹ لائن پر آ چکا ہے اور ایران کی جانب سے پاکستان سے ضمانت کا مطالبہ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا عکاس ہے۔ تہران کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کے نفاذ کے لیے اپنے پڑوسی ملک پاکستان اور تزویراتی شراکت دار چین کے کردار کو کلیدی سمجھتا ہے۔




