ہٹیاں بالا(کشمیر ڈیجیٹل)سابق وزیراعظم فاروق حیدر کا تگڑا وار، پی ٹی آئی رہنما و بزرگ سیاسی وسماجی شخصیت سید علی حیدر شاہ،سید شفافیت حسین شاہ،صداقت حسین شاہ،ملک تنویر اعوان،ملک خالد اعوان،ملک عابد اعوان،ناصر شاہ،وارث علی شاہ،شجاع علی،نگار علی،ندیم شیخ،یاسین شیخ،ایوب شیخ،بشیر شیخ،الطاف شیخ،جمیل شیخ،محمد صادق،نذیر شیخ،سید شہزاد حسین شاہ،عاطف حسین شاہ،عبدالقیوم جگوال سمیت دیگر نے پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں سے مستعفی ہو کر مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا۔۔
سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ جو لوگ غیر مہذب زبان استعمال کرتے ہیں انہیں نظر انداز کیا جائے۔
ہم نے اس کا جواب ووٹ کی پرچی کے زریعے دینا ہے میں رواداری، اخوت،بھائی چارے کی سیاست پر یقین رکھتا ہوں۔
گالم گلوچ کی سیاست نے معاشرتی،سیاسی اقدار کو نقصان پہنچایا،ہمارا کوئی کام نہیں ہے کسی کی بازاری زبان کا اس کے مقابلہ میں بازاری زبان سے جواب دیں۔۔
ہمیں اپنا کام کرنا ہے،ہم اپنا منشور دیں گے کوئی اور بہتر آتا ہے تو لے آئیں جس کو اللہ نے عزت دیناہو گی دے گا۔۔
سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اپنے حلقہ انتخاب کے علاقہ وارڈ بانڈی بکالاں،پٹھیاں میں منعقدہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے شمولیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کی مخالفت بھی کروں جسے اللہ نے دینا ہے اسے وہ ملے گا،جو اللہ نے مجھے دینا ہے وہ مجھے مل کر رہے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد:کروڑوں مالیتی سیف سٹی پروجیکٹ غیرفعال، سکیورٹی خدشات میں اضافہ
سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے نئے شامل ہونے والوں کو ہار ڈال کر مبارکباد دیتے ہوئے مسلم لیگ میں خوش آمدید کہتے ہوئے یقین دلایا کہ عوام کے اعتماد پر پورا، اترنے کے ساتھ ساتھ انہیں کبھی مایوس نہیں کروں گا،مجھے جو کوئی کچھ بھی کوئی کہے، اسے سب اگنور کریں لوگوں نے پیغمبروں،رسول اللہﷺ کو کیا کیا نہیں کہا؟
قائداعظم،سردار عبدالقیوم خان،سردار سکندر حیات خان کو لوگ برا بھلا کہتے تھے، میں ایک چھوٹا سیاسی کارکن ہوں،لوگ مجھے قائد کہتے ہیں میں قائد نہیں سب کا بھائی جماعت کا ادنی سا کارکن ہوں۔۔
ان شاء اللہ ہمیشہ عوام کے ساتھ چلوں گا،ہم نے مزید اچھی سڑک بنانی ہے ۔
چکار بازار کو ٹھیک کرنا ہے تانکہ ہمارے ہاں سیاح زیادہ آئیں اور ہمارے لوگوں کی آمدن میں اضافہ ممکن ہو،پاکستان میں ہماری حکومت ہے۔۔
ان شاء اللہ آزاد کشمیر میں بھی اس سال مسلم لیگ کی حکومت بنے گی،جو عوامی مشکلات ہیں انھیں مسلم لیگ کی حکومت ہی ختم کر سکتی ہے اور کوئی انہیں ختم نہیں کر سکتا جب کوئی بھی کسی کی مدد کرے۔۔
اللہ کے حکم کے مطابق کرے ایک ہاتھ سے دیں دوسرے کو پتہ نہ چلے،تصاویر،ویڈیوز بنا کر کسی کو دینا مناسب عمل نہیں ہے۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور الیکشن : سابق وزیراعظم چوہدری مجید کے صاحبزادے معزز مجید کی سیاست میں انٹری
چناری بازار جل گیا ہم نے لوگوں کی مالی معاونت کی لیکن کسی کا کوئی فوٹو نہیں بنایا یہ ہم کسی کو اپنے گھر سے نہیں دیتے کسی مستحق کی معاونت کرتے ہوئے ہم ان کے فوٹو بنائیں۔۔
حکومت کی زمہ داری ہے کہ وہ عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات، جان و مال کا تحفظ فراہم کرے،جو حکومت عوام کی بنیادی ضروریات کی زمہ داری پوری نہیں کرے گی لوگ اسے ووٹ کی پرچی سے مسترد کر دیں گے۔۔
عمران خان کی جانب سے 2021ء کے الیکشن میں جو ڈاکہ ڈالا گیا اس کے نتیجہ میں آزاد کشمیر میں چار سال میں چار وزیر اعظم بدل گئے۔۔
جس دوران ہر وزیر اعظم کی اپنی ترجیع رہی اگر یہ نہ ہوتا آج بہت سارے مسائل حل ہو گئے ہوتے،نوجوان اخلاق کو بہتر کریں۔۔
آج کل کے دور میں شیطانی آلے موبائل کا فائدہ بھی ہے نقصان بھی ہے،ہمیں چاہیے کہ ہم موبائل فائدے،لوگوں کی تربیت کیلئے استعمال کریں۔۔
ڈیزل،پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر کے ایک ہفتے میں حکومت نے 56 ارب کا بوجھ برداشت کیا ہم شہباز شریف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔۔
اللہ کرے ایران تنازعہ جلد حل ہو جائے تانکہ دنیا بھر میں لوگوں کو جو مشکلات اور مہنگائی کا خاتمہ ممکن ہو پائے۔۔
میرا کام لوگوں کی خدمت کرنا ہے میں کوئی سڑک دیتا ہوں تو حامی اور مخالف سب اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں،جو کسی کو پانی،راستہ دے گا وہ دنیا سے چلا بھی جائے اسے اس کا ثواب ملتا رہے گا۔۔
ہر کسی کو یہ کوشش کرنی چاہیے اس طرح کے کام ہوں جن سے اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچتا رہے،الیکشن کے دور ہے ہر جگہ جانا پڑتا ہے۔۔
مجھے پوری امید ہے کہ میرا الیکشن میرے حلقہ کے عوام خود لڑیں گے،تقریب سے ممبر مرکزی مجلس عاملہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر راجہ منیب احمد خان چکاروی، چیئرمین ٹاؤن کمیٹی چکار ملک بشیر، حاجی حاکم دین، راجہ ساجد سعید، سیکرٹری جنرل یوتھ ونگ ضلع جہلم ویلی راجہ ارباب نعیم، سید سجاد گیلانی آف نصیرآباد، جویریہ حسن اعوان، عشرت خالد راجہ اور دیگر نے بھی خطاب کرتے ہوئے نئے شامل ہونے والے کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مل کر جماعت کو مزید مضبوط بنائیں گے اور آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔




