پاکستان جسے کبھی واشنگٹن کی جانب سے تنقید اور تنہائی کا سامنا رہا، اب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق اسلام آباد نے نہ صرف امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ رابطوں میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سفارتی سطح پر رل گیا ،خواجہ آصف کا بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل
وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق امریکا کا 15 نکاتی امن منصوبہ ایران تک پہنچانے میں پاکستان نے بیک چینل سہولت کار کا کردار ادا کیا۔
امریکی مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پیغام پاکستانی تعاون سے منتقل کیا گیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق یہ رابطہ سفارتی چینلز کے ذریعے ممکن بنایا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کو نمایاں انداز میں سراہا، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح تبدیلی کی علامت قرار دی جارہی ہے۔
ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں پاکستان پر سخت تنقید کی گئی تھی، تاہم اب وائٹ ہاؤس حکام پاکستان کو خطے میں اہم شراکت دار قرار دے رہے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف تعاون، توانائی، اہم معدنیات اور سکیورٹی امور میں پاکستان کے ساتھ قریبی روابط قائم کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پُر اُمید ہے امریکہ اور ایران کے درمیان جلد مذاکرات ہوں گے ، اسحاق ڈار
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی میں پاکستان کی عسکری اورسفارتی قیادت نے اہم کردار ادا کیا، خصوصاً آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سرگرم سفارت کاری کو تعلقات کی بحالی میں فیصلہ کن عنصر سمجھا جا رہا ہے۔
ایران، جو پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، اسلام آباد کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات رکھتا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت بھی دی، جسے دونوں ممالک کے اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
اگرچہ ایران نے امریکی امن منصوبہ مسترد کرتے ہوئے اپنا 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے، تاہم پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ثالث ممالک کا ابتدائی اجلاس اسلام آباد میں متوقع ہے تاکہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے مطابق پاکستان کے لیے یہ صورتحال سفارتی لحاظ سے فائدہ مند ہے کیونکہ عالمی سطح پر تنہائی کا تاثر ختم ہو کر ملک دوبارہ مرکزی کردار میں آ گیا ہے۔
بعض ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان توازن برقرار رکھنا پاکستان کے لیے ایک مشکل سفارتی امتحان بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران کی قیادت کے خلاف کارروائیوں کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں امریکا مخالف مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے، جس سے حکومت پر تنازع کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کا دباؤ بڑھا۔
اسی دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے نے بھی اسلام آباد کی سفارتی حکمت عملی کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ صورتحال: وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، اہم گفتگو
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے متعدد سفارتی اقدامات کیے، جن میں دہشت گردی کے خلاف تعاون، علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں اور اقتصادی منصوبوں میں شمولیت شامل ہیں۔
پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنا بھی تعلقات میں گرمجوشی کی ایک علامت سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان براہِ راست مذاکرات کا فریق بننے کے بجائے سہولت کار یا بیک چینل ثالث کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران طالبان مذاکرات میں دیکھا گیا تھا۔




