امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے پاکستان کے ذریعے مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیںاور جلد معاہدہ ہو سکتا ہے جبکہ دوسری طرف امریکی صدر نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران میں’’تیل ذخائر‘‘پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور کہا کہ ہم ایرانی خارگ جزیرےپربھی قبضہ کر سکتے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق فنانشنل ٹائمز سے گفتگو میں ٹرمپ نے اس ممکنہ اقدام کا موازنہ وینزویلا میں امریکی پالیسی سے کیااور کہا کہ امریکہ وہاں تیل کی صنعت پر ’’طویل عرصے تک‘‘کنٹرول رکھنا چاہتا ہے، خاص طور پر جنوری میں صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد جیسے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ملک گیر مظاہرے، لاکھوں افراد کی شرکت
انہوں نے کہاکہ سچ کہوں تو، میری پسندیدہ چیز یہ ہے کہ ایران کا تیل لے لیا جائے، لیکن امریکہ میں کچھ بےوقوف لوگ کہتے ہیںآپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ ممکن ہے ہم خارگ جزیرہ لے لیں، ممکن ہے نہ لیں۔ ہمارے پاس بہت سے آپشنز ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہاکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ ہمیں وہاں (خارگ جزیرے پر) کچھ عرصے تک رہنا پڑے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ خارگ جزیرے پر ایران کا دفاع کیسا ہے، تو انہوں نے کہاکہ مجھے نہیں لگتا کہ ان کے پاس کوئی دفاع ہے۔ ہم اسے بہت آسانی سے لے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پُر اُمید ہے امریکہ اور ایران کے درمیان جلد مذاکرات ہوں گے ، اسحاق ڈار
ٹرمپ کا کہناتھا کہ ایران کیساتھ مذاکرات میں پیشرفت بھی ہوئی ہے اور ایران کے سپیکر نے 20پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ خامنہ ای کی صورتحال غیر واضح ہے،امریکا نے ایران میں 1300اہداف پر بمباری کی ہے اور 3000باقی ہیں۔




