ایران جنگ میں امن مذاکرات شروع کرنا آسان کام نہیں،چینی وزیرخارجہ

بیجنگ (کشمیر ڈیجیٹل)چینی وزیرخارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران جنگ میں امن مذاکرات شروع کرنا آسان کام نہیں ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے چینی وزیرخارجہ کا رابطہ ہوا،وزیرخارجہ نے ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت کا اظہار کیا۔

چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران جنگ میں امن مذاکرات شروع کرنا آسان کام نہیں،آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی بحالی کیلئے مذاکرات ناگزیر ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف کا پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان

چین اورپاکستان جنگ بندی اورامن مذاکرات کی بحالی پراتفاق کرتے ہیں،دونوں رہنماؤں نے غیر فوجی اہداف اور سمندری راستوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ضرورت پر زوردیا۔

چین نے زور دے کر کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ تنازعے کے خاتمے کے لیے اس کے سبھی فریق ایسے حالات پیدا کریں کہ حقیقی معنوں میں مخلصانہ اور نتیجہ خیز امن مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔‘‘

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کا پاکستان سے اظہار تشکر کا انوکھا انداز،امریکہ اور یورپ حیران

اس سے قبل بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں آج کہا، ”اس وقت سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ امن بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جائے، قیام امن کے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگ کو روکا جائے۔‘‘

ترجمان نے یہ بات اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی کہ آیا چین ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کیلئے ہونے والے کسی بھی طرح کے مذاکرات سے آگاہ ہے؟

وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ موقف چین ہی کے وزیر خارجہ وانگ یی کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے بدھ 25 مارچ کے روز کہا تھا کہ وہ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے اشاروں کی فضا میں ”امن کے لیے امید کی ایک کرن‘‘ دیکھ رہے ہیں۔

Scroll to Top