مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)ریاست مخالف بیانیہ پر نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سربراہ عوامی ایکشن کمیٹی شوکت نواز میر کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کاریاست مخالف بیانیہ سامنے آگیا۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی عالمی سطح پر ثالثی سفارتی کوششوں کو ثبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش بے نقاب ہوگئی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیری خواتین، بچے ایران کی مدد کیلئے میدان میں آگئے،زیورات،گُلک تک عطیہ
ایسے وقت میں جب پاکستان کی کامیاب پالیسیوں کو عالمی سطح پرسراہا جارہا ہے بھارت سیخ پا ہے وہاں آزادکشمیر کے اندر بھی ریاستی پالیسی کیخلاف عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما بھارتی بیانیہ کو تقویت دینے کیلئے میدان میں آگئے ۔
گزشتہ دنوں عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر نے مقامی سطح پر منعقدہ ایک اجتماع میں ریاست اور ریاستی محکموں کو دھمکی آمیز لہجے میں چند سوالات کئے جو کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بھارتی بیانیہ کا شاخسانہ ہیں۔
شوکت نوازمیر کے ریاست مخالف بیانیہ کیخلاف این سی سی آئی اے نے بڑا اقدام اٹھالیا، رہنما عوامی ایکشن کمیٹی کیخلاف ریاست مخالف بیانیہ پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔
سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ڈاکٹر فرحان ورک کا عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی آزادکشمیر میں جہاں خود اپنے آپ کو عوام کی نمائندہ جماعت کہلواتی ہے وہاں مقبوضہ کشمیر کی خواتین جنہیں حال ہی میں بھارتی عدالت نے سزائیں سنائیں ہیں اس پر کوئی ردعمل دیں گے مگر افسوس کہ بھارتی اقدام کیخلاف کوئی ردعمل دینے کے پاکستان کی امن کی کوشش کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے لگے ہیں ۔
ڈاکٹر فرحان ورک نے کہا کہ آزادکشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی بھارتی جیلوں میں قید کشمیری خواتین سیدہ آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور صوفی فہمیدہ کو سنائی گئی بھارتی عدالت کی سزاؤں کے خلاف خاموشی جبکہ پاکستان کی مشرقی وسطیٰ کے امن کیلئے کوششوں
کے خلاف بیان، شوکت نواز میر بھارتی زبان بول رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم تیز، پی ٹی آئی،پیپلزپارٹی کی مشکلات میں اضافہ
کشمیر کی مقبول ترین پارٹی کا دعویٰ کرنیوالے کشمیر کی بیٹیوں کا ذکر کرنے سے گھبراتے ہیں ۔میں سمجھ رہا تھا کہ یہ عوامی ایکشن کمیٹی کہیں آسیہ اندرابی ودیگر خواتین کی سزا کیخلاف احتجاج کیلئے نکلی ہو ، مگر افسوس کہ شوکت نواز میر کے پیج پر جب میں نے دیکھا تو وہی چیخیں سنائی دیں جو اس وقت بھارت کی چیخیں نکل رہی ہیں
بھارتی میڈیا کی جس طرح اس وقت چیخ رہا ہے کہ پاکستان کیوں اس وقت ایران جنگ میں ثالث بن رہا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کا ہی کیوں نام اوپر جارہا ہے ۔یقینی طور پر انہی بھارتی نوٹس پر شوکت نواز میر بھی بھارتی بیانیہ کا حصہ بنا ہوا ہے۔
وہ جماعت جسے کشمیری حریت رہنما آسیہ اندرابی پر بات کرنا چاہیے تھی اس جماعت کا سربراہ وہی بیانیہ بول ہے جو کہ بھارتی میڈیا بول رہا ہے۔۔اور ہمارے لوگ کتنے سادہ ہیں کہ ہمارے لوگ ان لوگوں کی باریک وارداتوں کو پہچانتے ہی نہیں ہیں ۔۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہان نے دواڑھائی سال میں جو بیانیہ بنایا ہے انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک لفظ بھی اپنے منہ سے نہیں نکالا ۔ نہ ہی کشمیری عوامی کی تکلیفوں کا کوئی تذکرہ سامنے آیا۔ مگر جہاں پاکستان کو بطور ریاست گندہ کرنا ہوتا ہے وہاں یہ بیانیہ لے آتے ہیں کہ ہم مقبوضہ کشمیر کے ساتھ آزاد ہونگے مگر جو مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم ہورہے ہیں ان پر یہ آواز بلند نہیں کرینگے ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور مجھے امید ہے کہ ہماری آزادکشمیر ومقبوضہ کشمیر کے دوست آسیہ اندرابی اور ان کی دیگر ساتھیوں کے حق میں آواز بلند کریں گے ۔




