مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلم شماخت اور کشمیری کلچر کو مٹانے کی سازشوں کے بعد ہندو انتہا پسند مودی سرکار نے اب برصغیر کی مسلمہ تاریخ کو مسخ کرنے کی ٹھان لی ۔
رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف جموں کی ڈیپارٹمنٹل افیئر کمیٹی نے ایم اے پولیٹیکل سائنس کے کورس سے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، شاعر مشرق مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اور برصغیر کے مسلمانوں میں علمی و ملی بیداری کی عظیم جدوجہد والی شخصیت علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان سے متلعق مضامین نکالنے کی سفارش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ سفارش بھارتی حکومت کی ایما پر کی گئی ہے اور عین ممکن ہے کہ آیندہ اس پر عملدرآمد کردیا جائے گا۔
بھارت کے بڑے اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام بھارتیہ ودیارتھی پریشاد کی جانب سے اس احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے جب نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 پر نظرثانی کے تحت ’منارٹیز اینڈ دی نیشن‘ کے
عنوان سے مضامین شامل کیے گئے جن میں قائد اعظم محمد علی جناح سمیت دوسری شخصیات سے متعلق مواد شامل تھا۔
یونیورسٹی کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ڈیپارٹمنٹل افیئرز کمیٹی کا اجلاس اتوار کو منتقد ہوا جس میں پولیٹیکل سائنس میں ایک سالہ اور دو سالہ ایم اے پروگراموں کے نصاب سے متعلق اٹھائے گئے بعض مسائل پر غور کیا گیا۔
حالانکہ اتوار کو جامعہ کے دیگر تمام شعبہ جات بند تھے مگر دباؤ کی شدت کے باعث اس اجلاس کو چھٹی کے روز ہی رکھا گیا۔
بیان کے مطابق ’مکمل غور و خوض کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر قائد اعظم محمد علی جناح، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اور سر سید احمد خان سے متعلق موضوعات کو ہٹانے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس معاملے پر اگلا اجلاس آج 24 مارچ کو ہو گا جس میں مضامین کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق پہلے اجلاس میں ہی ان مضامین کو ہٹانے کی منظوری دیدی گئی ہے اب صرف رسمی کارروائی باقی ہے،
رپورٹ کے مطابق ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے علاوہ دوسرے پروفیسرز کی جانب سے بھی کورس کا دفاع کیا گیا ہے جنھوں نے ان قائدین کو پاکستان کے بجائے برصغیر کی نابغہ روزگار شخصیات قرار دیا مگر حکام بالا انہیں صرف مسلم رہنما کے طور پر پیش کرتے رہے اور سفارشی عہدے دار مضامین نکالنے پر اڑے رہے
پروفیسر بلجیت سنگھ مان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا دقیانوسی اور تنگ نظری ہوگی کیونکہ یہ مضامین ہماری تاریخ کا حصہ ہیں ان شخصیات کے کردار و افکار کو پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا، ان مضامین کے ذریعے طلبا کو جدید انڈین سیاسی فکر کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر فراہم کرنے کیلئے ترتیب دیا گیا تھا۔
جس میں ونائک دمودر ساورکر، ایم ایس گولوالکر، مہاتما گاندھی، بی آر امبیڈکر، جواہر لعل نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے علاوہ محمد علی جناح، ڈاکٹر محمد اقبال اور سر سید احمد کے نام بھی شامل تھے۔
تاہم اے بی وی پی جموں اینڈ کشمیر جس کی قیادت سیکریٹر سیناک شریواتس کر رہے تھے، نے محمد علی جناح، محمد اقبال اور سر سید احمد کے ناموں کو نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دلیل دی ان کے بارے میں دو قومی نظریے اور تقسیم سے حوالے سے اساتذہ نے ’سخت تشویش‘ کا اظہار کیا رکھنے والے اساتذہ نے ’سخت تشویش‘ کا اظہار کیا ہے اور اسے قومی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
شریوات نے متنبہ کیا کہ اگر نصاب پر نظرثانی نہ کی گئی تو سخت احتجاج کیا جائے گا جبکہ ان کی جانب سے کچھ ایسے ناموں کو بھی شامل کیے جانے کہا گیا ہے جنہوں نے ان کے مطابق ’اقلیتوں کی فلاح کے لیے مثبت خدمات انجام دیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈیپارٹمنٹل افیئر کمیٹی کی کمیٹی متفق 5جسٹس میں اے بی وی پی کے خدشات کو اجاگر کیا گیا تھا اور اس پر عملدرآمد کے لیے منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد دو دہائیوں سے مسلم تشخص کو مٹانے، کشمیری و ہندوستانی مسلمانوں کو زیر بار کرنے، ملازمتوں، اعلیٰ ترین عہدوں سے دور رکھنے، تعلیمی دروازے بند کرنے، مسلم مشاہیر سے منسوب شاہرات، شہروں، پلوں و تاریخی عمارات کے نام تبدیل کرنے سمیت مسلم عائلی قوانین کو چھیڑنے اور سول کوڈ کو ہندو توا کے مطابق ڈھالنے کی منظم سازش رچائی گئی ہے ، بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی آئندہ چند سالوں تک مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں عیسائیوں، سکھوں ودیگر کے لئے عرصہ حیات تنگ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔




